پارٹی میں جنسی ہراسمنٹ اور جنسی مطالبوں کی میں گواہ ہوں ۔۔۔۔۔ریحام خان نے ایک ہی دن میں بھارتی میڈیا پر عمران خان پر بجلی گرانے والے دو دھما کے دار انٹر ویو

پارٹی میں جنسی ہراسمنٹ اور جنسی مطالبوں کی میں گواہ ہوں ۔۔۔۔۔ریحام خان نے ایک ہی دن میں بھارتی میڈیا پر عمران خان پر بجلی گرانے والے دو دھما کے دار انٹر ویو

پارٹی میں جنسی ہراسمنٹ اور جنسی مطالبوں کی میں گواہ ہوں ۔۔۔۔۔ریحام خان نے ... 08 جون 2018 (17:48) 5:48 PM, June 08, 2018

ریحام خان نے ایک ہی دن میں بھارتی میڈیا پر دو انٹر ویو دے ڈالے ہیں جس میں انہوں نے عمران خان اور ان کی پارٹی پر نئے الزامات لگا دیے ہیں - ریحام خان کا کہنا ہے کہ :"یہ ایک ایجنڈا ہے صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے -اگر آپ رائٹ بینک کو ووٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں صرف وزیر اعظم بننے کے لیے آپ کو لوگ مسلسل مسٹر یو ٹرن کہہ رہے ہیں جو کہ بالکل درست ہے اور میری کتاب کی ایک مشہر سطر ہے کہ میں آئندہ انتخابات میں آپ کو ووٹ نہیں دوں گی اور میں نے ان سے یہ اس وقت کہا جب میں ان کی بیوی تھی تو وہ ہنس دیتے تھے ٹاپ پوزیشن پر موجود لوگوں کو زمہ داری لینا ہوگی پارٹی میں جنسی ہراسمنٹ اور جنسی مطالبوں کی میں گواہ ہوں - اور اس کے بارے میں میں نے کتاب میں بھی ذکر کیا ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے - -یہ مطالبے عمران خان خود اور ان کی پارٹی کے دوسرے ممبر کرتے تھے اور اس بارے میں میں انہیں بہت روکا اور یہی وجہ ہے کہ وہ کتاب کو سامنے نہیں آنے دینا چاہتے اور یہی وجہ ہے کہ یہ شادی زیادہ دیر تک نہیں چل سکی - میں نے اپنی کتاب میں جنسی جبر کے متعلق لکھا ہے اور یہ سیاست میں کس طرح استعمال ہوتا ہے ".

اس سے قبل حمزہ علی عباسی نے اس کتاب کے حالات معلوم کر کے ایک ایک کر کے بتایا کہ اس کتاب میں لکھا کیا ہے . ریحام خان اس کتاب کو شائع کر سکیں گی یا نہیں, یا پھر مسودہ دے کر اُنھوں نے پروپیگنڈہ کیا ہے .مُلتان کی عدالت سے آرڈر جاری کیا گیا ہے کہ اس کتاب کو شائع ہونے سے روکا جائے .حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ اُن کے اور مُراد سعید کے بارے انتہائی بیہودہ قسم کے الزامات اس کتاب میں لگائے گئے ہیں کہ عمران خان کیساتھ میرے اور مُراد سعید کے غلط تعلقات ہیں اس کتاب میں انتہائی نامناسب الفاظ استعمال ہوئے ہیں .حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ ریحام خان نے مُجھ پر ہرجا نے کا نوٹس بھی جاری کروایا ہے کہ میں نے اُن کی اور احسن اقبال کی ای میل ہیک کر کے اپ لوڈ کی ہے ان کے اس ہرجانے کا جواب میں ایک دو دن میں جمع کروا دوں گا . ان کا ای میل ہیک نہیں ہوا بلکہ ان کے ایک اپنے ہی پبلشر نے یہ کتاب کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے لیک کر دی . اُس شخص نے ریحام خان کو کہا کہ آپ کی پوری کتاب چاہئیے کیونکہ ترکی میں جو پبلشر ہے اُسے اس کے مسودے کے علاوہ اور بہت ساری ڈیٹیلز چاہئیے . یہ اپنے دو بچوں ساحر جو کہ اس بے ہودہ کتاب کو ایڈٹ کرتا ہے اور ایک بیٹی کیساتھ اسنبول پہنچ بھی گئیں تھیں وہاں جا کر انھیں پتہ چلا کہ کتاب لیک ہو گئی ہے ان کے اپنے ٹیم ممبر نے ان کی کتاب لیک کی ہے۔

ریحام خان نے اپنی کتاب میں شیعہ سُنی کا عنصر بھی کو بھی ایک غلط رنگ میں بیان کیا ہے .صفحہ نمبر 257 پر ریحام خان لکھتیں ہیں کہ " جب شیری مزاری صاحبہ نے مُجھے دیکھا کہ ڈرائیور کیساتھ اندر آرہی ہوں اور اُس ڈرائیور کی داڑھی بھی تھی تو شیری مزاری نے مُجھ سے کہا کہ یہ کون طالبان ہے جس کیساتھ تُم آ رہی ہو میں نےکہا کہ یہ میرا ڈرائیور ہے اور بہت وفادار ہے .جب پی ٹی آئی کی قیادت کو میری اسٹرونگ پختون ویلیو اور سُنی دیوبندی بیک گراؤنڈ کے بارے میں پتہ چلا تو پی ٹی آئی کے شیعہ رُکن مُجھ سے نفرت کرنے لگے اور وہ الزام لگاتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی جو اکثریت ہے وہ شیعہ ہے اُن میں وہ کُچھ لوگوں کے نام لیتی ہیں شیری مزاری ,شاہ محمود قُریشی ,عارف علوی ,فردوس نقوی .صفحہ نمبر 44 پر لکھتی ہیں کہ اسٹرونگ شیعہ ,محب وطن عمران خان کیساتھ انوسٹ کر کے اپنا کوئی ایجنڈہ پورا کرنا چاہا رہے ہیں .آگے صفحہ نمبر 449 پر لکھتی ہی کہ یہ بُہت سوچ ہے پاکستان میں کہ سُنی بُہت محفوظ اور مضبوط ہیں اور شیعہ بُہت کمزور ہیں وہ لکھتی ہیں کہ میں نے ایسا بلکل نہیں دیکھا مجھے نے پی ٹی آئی میں میرے سُنی دیوبندی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے مُجھے شیعوں نے ٹارگٹ کیا . 289 اور 290 صفحے کہ ریحام خان لکھتیں ہیں کہ عمران خان نے مُجھ سے کہا تھا کہ تم جب میرے ساتھ ارکان کو ملا کرو تو دوپٹہ نہ کیا کرو کیونکہ اس سے بُہت غلط تاثر پڑتاہے . حلانکہ عمران خان کیساتھ جب جمائمہ تھیں اُنھوں نے بھی دوپٹہ کیا اور شلوار قمیص پہنی . اس کتاب میں ریحام خان نے عمران خان کو را ایجنٹ بھی قرار دیا ہے.آپ لوگوں میں سے کسی نے سوچا کہ ریحام خان کے پاس پیسہ کمانے کا پچھلے دو ڈھائی سال سے ذریعہ کیا ہے . کسی کو بھی اس بارے میں نہیں پتا .اُن کے اخراجات کون اُٹھا رہا ہے اور وہ لندن میں اتنی شاندار زندگی گُزارنے کیلئے پیسہ کہاں سے لا رہی ہیں .جب وہ اسنبول گئیں اور اُنھیں لگا کہ پبلشر اُن کی کتاب پبلش کر دیں گے تو اُس وقت بھی انھوں نے بزنس کلاس میں سفر کیا . ایک شو میں پروگرام میں ایک لاکھ روپے کیلئے اُنھوں نے جھگڑا کیا تھا . اس وقت تو اُن کے پاس کوئی جاب بھی نہیں میڈیا کو اُن سے پوچھنا چاہئیے کہ آپ کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آ رہے ہیں .

متعلقہ خبریں