ایک غلام کیسے سلطنت اسلامیہ کا بادشاہ بن گیا-پڑھیے مسلمان بادشاہ سلطان بیبرس کی داستان

ایک غلام کیسے سلطنت اسلامیہ کا بادشاہ بن گیا-پڑھیے مسلمان بادشاہ سلطان بیبرس کی داستان

ایک غلام کیسے سلطنت اسلامیہ کا بادشاہ بن گیا-پڑھیے مسلمان بادشاہ سلطان ... 08 جون 2018 (10:27) 10:27 AM, June 08, 2018

چھ سو تیس ھ میں دمشق کی بودہ منڈی میں دشت قیچاق اور کوہ قاف سے لائے گئے معصوم بچوں کی نیلامی کی گئی ۔ اپنی خوبصورتی اور معصومیت کی وجہ سے یہ بچے ہزاروں دیناروں کے عوض فروخت ہوئے، ان ہی بچوں میں محمود نامی بچہ اپنی ایک آنکھ میں سقم ہونے کی وجہ سے ایک معمولی تاجر علاؤ الدین بند قداری کے ہاتھوں محض بیس دینار میں فروخت ہوا

۔ بند قداری محمود سے بہت محبت اور شفقت سے پیش آتا تھا۔ تجارت میں ہونے والے نقصان کے باعث بند قداری علی بن الورقہ نامی ایک مہاجن کا مقروض ہوا تو محمود قرض کی ادائیگی کے بدلے میں الورقہ کی غلامی میں آگیا

الورقہ محمود سے بہت توہین آمیز سلوک کرتا ۔ الورقہ کی بہن فاطمہ نے اس سلوک پر سرزنش کی تو الورقہ کی بیوی نے محمود، فاطمہ کو تحفے میں بخش دیا ۔ فاطمہ نے محمود کو بیٹوں کی طرح پالا اور اسکی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ آنے دی ۔ فاطمہ کا بیٹا بیبرس نو عمری میں وفات پا گیا تھا ۔ غلامی ماں بیٹے کے رشتے میں بدلی اور محمود بیبرس ہو گیا۔

بیبرس بند قداری ، اپنے مہربان آقا کی یاد میں محمود نے نئے نام کے ساتھ اس کا لقب جوڑ لیا ۔ فاطمہ کے ماموں زاد کے توسط سے بیبرس کی رسائی دربار مصر تک ہو گئی اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور بخت آوری کے سبب وہ بہت جلد وہ سلطان نجم الدین کے محافظ دستے کا امیر اعلی بن گیا

چھ سو اٹھاون ھ میں معرکہ عین جالوت میں بیبرس نے اپنی عسکری قیادت سے تاتاریوں کے ڈیڑھ لاکھ کے لشکر کو کاٹ کر رکھ دیا ۔ 656ھ میں بغداد کی تباہی کے بعد مسلمانان اسلام کی تاتاریوں کے خلاف عظیم فتح تھی لیکن اس وقت کے سلطان مصر سیف الدن قطوزی نے نا صرف بیبرس کو سا لاری سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دیے ، بلکہ بیبرس کی عسکری قیادت سے خوفزدہ ہو کر اس کے قتل کا منصوبہ بھی بنا ڈالا ۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا سلطان سیف الدن قطوزی ، بیبرس کے اتفاقی وار سے اپنے انجام کو پہنچا ۔ 17 ذیقعد 658ھ کو مصری اور حملوک امراء اور سالاروں کی باہمی رائے سے بیبرس کو تخت مصر پر بٹھا دیا گیا اور بیس دینار کے عوض فروخت ہصنے والا غلام مصر کا خودمختار سلطان بن گیا ۔ بعد ازاں سلطان بیبرس نےاپنے لیے ملک الظاہر کا لقب پسند کیا

سلطان بیبرس حمالیک کے سلسلے کا چوتھا حکمران تھا مگر سلطان بیبرس ایک ایسے نازک وقت میں مصر کس تخت پر جلوہ افروز ہوا ، جب ایک طرف تو مسلمان ڈیڑھ صدی سے صلیبی طالع آزماؤں کی ستم ظریفیوں کا ہدف تھے تو دوسری طرف وحشی تاتاریرں نے خلافت کا تقدس پامال کر دیا تھا ۔ ایسے میں سلطان بیبرس وحشیوں کے سامنے چٹان بن کر کھڑا ہو گیا صلیبی اس کی ہیبت کے سامنے جم کر کھڑے نہ رہ سکے ۔ سلطان بیبرس کی یہ درخشاں عسکری کامیابیاں ہی تھیں ، جنہوں نے متعصب مغربی مؤرضین سے بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کی عظمت کا اعتراف کرایا ۔ جہادسے اسے عشق تھا۔ وہ دنیائے اسلام کا صلاح الدین ثانی تھا ۔ سلطان بیبرس نے رعیت کی خدمت میں ساری زندگی گھوڑے کی پیٹھ پر گزار دی۔ سلطان بیبرس شجاعت میں موسی بن نصیر تو سخاوت میں جعفر اور نظم ونسق میں منصور تھا ۔ خلیفہ ہارون الرشید کی طرح بھیس بدل کر رعایا گیری کرنا ۔ دفتری انتظام خود دیکھنا ۔ سلطان کا خاصہ یہ تھا کہ وہ مصر کے بازاروں ایک عام آدمی کی طرح گھومتا اور لوگ اس بات سے بے حبر ہوتے تھے کہ ان کا سلطان ان کے درمیان گوم رہا ہے

چھ سو چھپن ھ میں بغداد کی تباہی کے بعد عباسی خلافت تقریبا ختم ہو چکی تھی ۔ ایسے میں خلافت عباسیہ کے دوبارہ احیاء کا سہرا بھی سلطان بیبرس کے سر ہے۔اس نے 659ھ ظاہر باللّہ کے بیٹے ابوالقاسم المعروف مستنصر باللّہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور قاہرہ کو خلافت کا مرکز بنایا

سلطان بیبرس نے مصر کے انتظام وانصرام کے بعد صلیبیوں کے مقابلہ کی تیاری کی ۔ عسکہ اور طرابلس الشام کے سوا تمام مقبوضات جو صلیبیوں کے قبضہ میں تھے ، بہ قوت چھین لی ۔ دوسری طرف تاتاریوں سے مسلمانان اسلام کا اچھی طرح بدلہ لیا ۔ان سے بغداد چھینا اور شام اور مصر سے ان کا رخ پھیر دیا ۔ سلطان بھیس بدل کر دشمن کی صفوں میں گھس جاتا تھا اور ان کی حکمت عملی کمال ہوش یاری سے معلوم کر لیتا اپنے حریفوں سے پوری طرح باخبر رہتا تھا ۔ ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب سلطان بیبرس ہلاکوخان کی سلصنت کے دارالحکومت میں ایک مفتی کے بہروپ میں جا پہنچا اور تاتاریوں کے طریق جنگ کی بیش بہا معلومات اکٹھی کر لی

ہلاکو خان کو اس بات کی جبر اس وقت ہوئی جب سلطان نے مصر پہنچ کر ایک مراسلہ ہلاکو خان کو ہبھجوایا کہ وہ اس کی انگوٹھی واپس بھجوا دے جو کھانے کے بعد ایک نانبائی کی دکان پر بھول آیا ہے ۔ ہلاکو خان سلطان کی جرات سے دنگ رہ گیا اور مراسلے کی نشاندہی کی مطابق نانبائی سے انگوٹھی برآمد کروائی۔ ہلاکو خان نے انگوٹھی واپس بھجوائی اور اس کی جرات کا بھی اعتراف کیا

سلطان بیبرس کے عظیم کارناموں میں ایک کارنامہ "فرقہ باطنیہ کی تباہی بھی ہے ۔ حسن بن صباح کی شروع کی ہوئی 182 سال تک چلنے والی تحریک کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں سلطان بیبرس نے اہم کردار ادا کیا ۔

سلطان بیبرس نے 667ھ میں فریضہ حج ادا کیا اور اپنے ہاتھوں سے خانہ کعبہ کو غسل دیا اور دیبا کا غلاف چڑھایا ۔ روضہ رسول پاک ضلی الّلہ علیہ و آلہ وسلم پر حاضری دی اور یہ بات مشاہدہ میں آئی کہ مسلمانان اسلام بلا تکلف قبر مبارک کو جصار میں لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سلطان نے قبر انور کے گرد لوہے کا محجر تعمیر کروایا جو اب بھی ہے۔

675ھ میں اباقہ حان (ہلاکو خان کا بیٹا )کے خلاف ایک لڑائی کے دوران سلطان بیبرسکے شانے پر تلوار کا گہرا گھاؤ لگا جو عدم توجہ کے باعث خراب ہو گيا اور اسی زخم کی وجہ سے 27 محرم 676ھ کو اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کی۔