سا غر صد یقی:دیر و حرم کی راہ سے دل بچ گیا ..............مگر تیری گلی کے موڑ پہ سودائی بن گیا

سا غر صد یقی:دیر و حرم کی راہ سے دل بچ گیا ..............مگر تیری گلی کے موڑ پہ سودائی بن گیا

سا غر صد یقی:دیر و حرم کی راہ سے دل بچ گیا ..............مگر تیری گلی کے موڑ پہ ... 08 جولائی 2018 (21:58) 9:58 PM, July 08, 2018

اس درجہ عشق موجب رسوائی بن گیا

میں آپ اپنے گھر کا تماشائی بن گیا

دیر و حرم کی راہ سے دل بچ گیا مگر

تیری گلی کے موڑ پہ سودائی بن گیا

بزم وفا میں آپ سے اک پل کا سامنا

یاد آ گیا تو عہد شناسائی بن گیا

بے ساختہ بکھر گئی جلووں کی کائنات

آئینہ ٹوٹ کر تری انگڑائی بن گیا

دیکھی جو رقص کرتی ہوئی موج زندگی

میرا خیال وقت کی شہنائی بن گیا

متعلقہ خبریں