سا غر صد یقی:بھولی نہیں وہ قوس قزح کی سی صورتیں ساغرؔ ..........تمہیں تو مست دھیانوں نے لے لیا

سا غر صد یقی:بھولی نہیں وہ قوس قزح کی سی صورتیں ساغرؔ ..........تمہیں تو مست دھیانوں نے لے لیا

سا غر صد یقی:بھولی نہیں وہ قوس قزح کی سی صورتیں ساغرؔ ..........تمہیں تو مست ... 08 جولائی 2018 (21:43) 9:43 PM, July 08, 2018

تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا

افسردگی کا روپ ترانوں نے لے لیا

جس کو بھری بہار میں غنچے نہ کہہ سکے

وہ واقعہ بھی میرے فسانوں نے لے لیا

شاید ملے گا قریۂ مہتاب میں سکوں

اہل خرد کو ایسے گمانوں نے لے لیا

یزداں سے بچ رہا تھا جلالت کا ایک لفظ

اس کو حرم کے شوخ بیانوں نے لے لیا

تیری ادا سے ہو نہ سکا جس کا فیصلہ

وہ زندگی کا راز نشانوں نے لے لیا

افسانۂ حیات کی تکمیل ہو گئی

اپنوں نے لے لیا کہ بیگانوں نے لے گیا

بھولی نہیں وہ قوس قزح کی سی صورتیں

ساغرؔ تمہیں تو مست دھیانوں نے لے لیا

متعلقہ خبریں