ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے متعلق غلط خبریں چلانے پر بھارتی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کردیا

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے متعلق غلط خبریں چلانے پر بھارتی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کردیا

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے متعلق غلط خبریں چلانے پر بھارتی میڈیا کا بھی شکریہ ... 08 جولائی 2018 (17:30) 5:30 PM, July 08, 2018

ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے متعلق غلط خبریں چلانے پر بھارتی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے این ڈی ٹی وی ، اے این پی،ٹائمز ناؤ چینل سمیت دوسرے بھاری ٹی وی چینلز کے نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔جنھوں نے دو روز قبل مجھ سے متعلق غلط خبر چلائی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دو روز قبل 4جولائی کو کئی بھارتی چینلز او ر اخبارات نے یہ خبر چلائی کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملائیشیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔اور انہیں بھارت واپس بھجوا دیا جائے گا۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کا کہنا تھا کہ دو بھارتی ٹی وی اس ایشو پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے غلط خبریں چلا رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ٹی وی نے ایک پولیس آفیسر کا نام بتاتے ہوئے کہا کہ اس پولیس آفیسر کے مطابق ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملائیشیا میں گرفتار کر لیا جائے گا اور بعد میں انہوں نے اس پولیس آفیسر کا نام ہٹا دیا۔یہاں تک کہ اے بی پی چینل نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ڈاکٹرذاکر نائیک اگلے چند گھنٹوں میں بھارت میں ہوں گے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کا کہنا تھا کہ یہ دونوں بھارٹی ٹی وی مقابلہ پر غلط خبریں چلا رہے تھے۔وہ سب پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کا چینل پہلا میڈیا چینل ہے جس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی گرفتاری کی خبر دی۔اور اس طرح سے بھارتی ٹی وی نے اس ایشو کا حساس بنا دیا۔انہوں نے کہا ایک بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزیراعظم نرئیندر مودی کے ملائشیا جانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کوبھارت کے حوالے کیا جائے۔تاہم اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ خبر بلکل غلط ہے۔

اور بھارتی میڈیا مجھ سے متعلق دو سال سے ایسی ہی غلط خبریں چلا رہا ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ ڈھاکہ پر جو دہشت گرد حملہ ہو تھا جس میں 20لوگ جان کی بازی ہار گئے تھے۔وہ دہشت گرد ڈاکٹر ذاکر نائیک سے متاثر تھا۔اور اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بھارتی میڈیا کی مجھ سے متعلق چلائی گئی پہلے والی تمام خبریں بھی غلط تھیں۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کا مزید کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتہ کہ بھارتی میڈیا یہ کیوں کر رہا ہے ہو سکتا ہے وہ مالی فوائد لینے کے لیے یہ کر رہا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا پیسے کی خاطر کوئی خبر بھی چلا سکتا ہے۔خیال رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف بھارت میں عائد کیے جانے والے الزامات کے بعد مذہبی اسکالر نے بھارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعدڈاکٹر ذاکر نائیک ملائیشیا روانہ ہو گئےتھے ۔

قبل ازیں ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے جمعہ کے روز کہا کہ مذہبی مبلغ ذاکر نائیک کو بھارت واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ انھوں نے ملک کے انتظامی دارالحکومت پتراجیہ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب تک ذاکر نائیک سے یہاں کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہم انھیں واپس نہیں بھیجیں گے۔ کیونکہ انھیں یہاں مستقل رہائشی کا درجہ حاصل ہے۔

چند روز قبل نئی دہلی میں میڈیا رپورٹوں میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ذاکر نائیک بھارت واپس آرہے ہیں۔ نائک نے ایک بیان جاری کر کے اس خبر کو بے بنیاد اور غلط قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ جب تک وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ بھارت میں ان کے خلاف صاف شفاف اور منصفانہ کارروائی ہوگی وہ واپس نہیں آئیں گے۔قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے ترجمان آلوک متل نے بھی میڈیا رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ سرِدست ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ہم اس خبر کی تصدیق کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں