عراق میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے لیے ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے لیے ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے لیے ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی 08 جولائی 2018 (10:01) 10:01 AM, July 08, 2018

عراق میں بارہ مئی کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے لیے ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کا آغاز منگل کے روز ہوا تھا۔ اس سلسلے میں مبصرین نے باور کرایا ہے کہ کرکوک صوبے کے شہر داقوق میں الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ سابقہ الکٹرونک نتائج اور اب ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کے نتائج میں واضح اور بڑا فرق سامنے آیا ہے۔

سابقہ اعلان کردہ نتائج میں مقتدی الصدر کے حمایت یافتہ اتحاد "سائرون" کی پہلی پوزیشن تھی جب کہ کرکوک صوبے میں سابق صدر جلال طالبانی کے Patriotic Union of Kurdistan نے برتری حاصل کی تھی۔

کرکوک صوبے کے دو انتخابی مراکز کے حلقے کے ذمّے دار احمد رمزی نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کے نتیجے میں صوبے میں ترکمان اور عربوں کی واضح برتری سامنے آئی ہے جب کہ پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے ووٹ کم ہو گئے ہیں۔

رمزی کے مطابق کرکوک میں جمال عبدالناصر اسکول کے انتخابی مرکز کے ووٹوں کی ہاتھ سے گنتی کے بعد ترکمان فرنٹ نے 738 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ یہ تعداد الکٹرونک گنتی کے ذریعے اعلان کردہ سابقہ تعداد 145 ووٹوں سے 593 ووٹ زیادہ ہے۔رمزی نے مزید بتایا کہ عرب اتحاد نے الکٹرونک گنتی میں 46 ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ اب ہاتھوں سے گنتی کے بعد اس کے ووٹوں کی تعداد 193 ووٹوں کے اضافے کے بعد 239 تک پہنچ گئی ہے۔رمزی کا کہنا تھا کہ کردستان پیٹریاٹک یونین نے الکٹرونک گنتی کے نتائج میں پہلے 1363 ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ ہاتھوں سے گنتی کے بعد اس کے ووٹوں کی تعداد 1248 ووٹ کم ہو کر صرف 115 رہ گئی۔

متعلقہ خبریں