افغان حکومت نے طالبان کو امن کی دعوت دے دی۔بڑا اعلان

افغان حکومت نے طالبان کو امن کی دعوت دے دی۔بڑا اعلان

افغان حکومت نے طالبان کو امن کی دعوت دے دی۔بڑا اعلان 07 جون 2018 (16:30) 4:30 PM, June 07, 2018

افغان حکومت کا طالبان سے عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے ویڈیو پیغام میں سیکورٹی فورسز کو طالبان کے خلاف آپریشن فوری طور پر روکنے کی ہدایت کر دی ۔یہ سیز فائر 12 جون سے 20 جون تک قائم رہے گا۔ افغان صدر کا کہنا تھا جنگ بندی کا مقصد طالبان کو ان کی پرتشدد کارراوئیاں چھوڑنے کی ترغیب دلانا ہے۔

ٹوئیٹر پر کیے افغان صدر کے اعلان کے مطابق، جنگ بندی رمضان کے ستائیسویں دن سے شروع ہوگی اور شوال کی پانچ تاریخ تک برقرار رہے گی۔رمضان کے ستائیسویں دن گیارہ جون کی تاریخ ہوگی۔ جبکہ شوال کے پانچویں دن جون کی 15 تاریخ ہونے کا امکان ہے۔ افغان صدر کے مطابق، ملک کی سیکورٹی فورسز افغان طالبان پر حملے روک دیں گی۔ جبکہ داعش اور دوسری غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں پر حملے جاری رکھے جائیں گے۔

یاد رہیکہ کچھ روز قبل افغانستان کےعلماء کی میٹنگ میں ایک خود کش بم دھماکے میں 14 افراد جاں بحق ہوگئے تھے. پولیس کے مطابق بمبار نے خو د کو دروازے کے قریب دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جہاں دو ہزار سے زائد مذہبی عالم بڑے جرگے میں ملاقات کر رہے تھے، جرگہ میں خودکش حملے حرام قرار دینے پر اتفاق ہونا تھا۔کسی نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی . میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ابتدائی طور پر چار افراد ہلاک ہوئے لیکن تازہ ترین تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد 14 ہے ۔ خودکش حملہجرگے کے خیمے کے باہر ہوا جب مذہبی علماء کا اجتماع ہو رہا تھا." یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ ان میں سے کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں. افغان علماء نے فتوا میں کہا کہ " خودکش حملہ شرعی اور اسلامی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہے اور یہ مسلمانوں کے خون بہانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے." انہوں نے کہا کہ خودکش حملوں، لوگوں کو قتل کرنے، دھماکوں، بغاوت، مختلف قسم کے فسادات، اغوا اور تشدد کے کسی بھی قسم کے قتل کے لئے دھماکہ کرنا اسلام میں بڑے گناہ کے طور پر شمار کیا جاتا ہے اور اللہ تعالی کے حکم کے خلاف ہے.

متعلقہ خبریں