مسلمانوں کی ضرورت کے لیے چل کر جانا -حضرت ابن عباس رضی اللّہ تعالی عنہ نے اععتکاف کیوں توڑ دیا پڑھیۓ ایمان افروز واقعہ

مسلمانوں کی ضرورت کے لیے چل کر جانا -حضرت ابن عباس رضی اللّہ تعالی عنہ نے اععتکاف کیوں توڑ دیا پڑھیۓ ایمان افروز واقعہ

مسلمانوں کی ضرورت کے لیے چل کر جانا -حضرت ابن عباس رضی اللّہ تعالی عنہ نے ... 07 جولائی 2018 (12:18) 12:18 PM, July 07, 2018

حضرت ابن عباس رضی اللّہ تعالی عنہما ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی مسجد میں معتکف تھے۔ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور سلام کر کے (چپ چاپ ) بیٹھ گیا

حضرت ابن عباس رضی اللّہ تعالی عنہما نے اس سے فرمایا :"میں تمہیں غم زدہ اور پریشان دیکھ رہا ہوں کیا بات ہے " اس نے کہا :" اے حضور اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا کے بیٹے !ميں بیشک پریشان ہوں کہ فلاں کا مجھ پر حق ہے اور (حضور اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر اطہر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ) اس قبر والے کی عزت کی قسم ! میں اس حق کے ادا کرنے پر قادر نہیں "

حضرت ابن عباس رضی اللّہ تعالی عنہما نے کہا :"اچھا کیا میں اس سے تمہاری سفارش کر دوں " اس نے عرض کیا :"اگر آپ مناسب سمجھیں تو "

حضرت ابن عباس رضی اللّہ تعالی عنہما جوتا پہن کر باہر تشرف لائے

اس شخص نے عرض کیا :"کیا آپ اپنا اعتکاف بھول گئے "

فرمایا :"بھولا نہیں ہوں بلکہ میں نے اس قبر والے( صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم) سے سنا ہے اور ابھی زمانہ کچھ زیادہ نہیں گزرا ۔" یہ لفظ کہتے ہوئے ابن عباس رضی اللّہ تعالی عنہما کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔" کہ حضور صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنے بھائی کے کام کے لیے چلے اور اس میں کامیاب ہوجائے تو اس کے لیے یہ دس سال کے اعتکاف سے افضل ہے اور جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللّہ کی رضا کے واسطے کرتا ہے تو اللّہ تعالی اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان ، زمین کی مسافت سے بھی زیادہ ہے اور جب ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو دس برس کے اعتکاف کی کیا کچھ ہو گی

متعلقہ خبریں