چار سو عکس ہے‎ (قسط 2)

چار سو عکس ہے‎ (قسط 2)

چار سو عکس ہے‎ (قسط 2) 06 جون 2018 (20:40) 8:40 PM, June 06, 2018

ابتدا آج ہی ہوئی ہے . مجھ میں ایک ایسے انسان کی پرشوق حیرت ہے  جو پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہے . مجھ میں ابھی استدلال کی قوت پیدا نہیں ہوئی .  میں گنگ ہو ں , صرف دیکھ رہا ہوں اور اپنے گرد پھیلے ہیبت ناک منظر کے رعب سے سحر زدہ ہوں ......اور شاید میں تو ان سر بلند  پتھروں کے دوران کے گھرے کسی ڈیلفی کے معبد چلا آیا ہوں . جو کچھ مستقبل میں روپوش ہے . اسمیں جھانکنے کے لیئے اپنے انجام سے باخبر ہونے کے لیئے . اے ڈیلفی کے اوریکل  , مجھے خبر کر کہ میرا یہ سفر کیسا ہو گا کیا میں ہمیشہ کیطرح خیرو عافیت سے گھر لوٹوں گا یا ان دیکھے دیوتاؤں کا شکار ہو کر گرداڑدیسس کی طرح ایک عمر سرخ شراب کے   ایسے سمندروں میں بھٹکتا رہوں گا , مجھےخبر کر . 

        میرے اوپر نیلی اینٹوں کا آسمانی گنبد اتنے قریب لگ رہا ہے کہ شاید میں ہاتھ لگا کر اسے چھوبھی سکتا ہوں . 

      آسما نی قربتوں  نے ہمیشہ سے انسان کو اپنی جانب کھینچا ہے . وہ تلاش   کے لیئے یا تو غاروں کا بسیرا کرکے اپنا اندر روشن کرتا ہے . اور یا پھر بلندیوں پر ڈیرا جماکر دھونی رمالیتا ہے . کیا ہم ان دیکھی حقیقتوں کی جستجو انسانوں سے کٹ کر ہی کر  سکتے ہیں. اپنی پہچان کے لیئے زرہِ محسوس صحرا الگ ہو تبھی , میں خود سفر پرنکلتا ہوں تو شاید اس لیئے کہ انسانوں کا ایک گروہ اور مخصوص معاشرہ اپنے زورِ حرکت سے میرے قدم اکھاڑ کر مجھے مکانکی اور بے اختیاروجود میں بدل دیتا ہے .... . لیکن تاحدِ دیر میں ان سے جدا بھی نہیں رہ سکتا . کچھ عرصے بعد گھر کی جانب کھینچا چلاآتا ہوں . چاہت کی اسی شدت کیساتھ جو اسے چھوڑتے ہوئے مجھ پر حاوی ہو جاتی ہے . کیا اس کا مطلب ہےکہ میں اپنے اس چغیرے میں مس فٹ ہوں . مجھ میں ایک جگہ جم کر حقیقتوں کا سامنا کرنے کی جرات نہیں وطن واپسی ہوتی ہے تو ایک مختصر مدت پچھلے سفر کی  یادوں  میں غرق ہو کر گزرتی پے مگر بالآخر مجھے سانس لینے کے لیئے واپس

اپنے  ماحول میں , سطح آب پر آنا پڑتا ہے . اور تب میری آنکھیں چندھیا جاتی ہیں .

متعلقہ خبریں