بائس رمضان المبارک یوم شہادت شیر خدا داماد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ

بائس رمضان المبارک یوم شہادت شیر خدا داماد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ

بائس رمضان المبارک یوم شہادت شیر خدا داماد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ... 06 جون 2018 (18:16) 6:16 PM, June 06, 2018

حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (599ء –661ء) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔ حضر ت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً دس یا گیارہ سال تھی۔

مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا۔ آپ کے وہ پیرو جو مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں بعض کو قتل کیا۔ بعض کو قید کیا اور بعض کو زد وکوب کیااور تکلیفیں پہنچائیں۔ پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں، یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی، اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوں نے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا، آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا آپ شہر کے اندرر کر مقابلہ کریں اور دشمن کو یہ موقع دیں کہ وہ مدینہ کی پر امن ابادی اور عورتوں اور بچوں کو بھی پریشان کرسکے۔ گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ آدمی تھے، ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے کر لیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی۔ جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔ اس لڑائی میں زیادہ رسول نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبید ہ ابن حارث رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اس جنگ میں شہید ہوئے۔ علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے سر رہا۔ جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں علی بن ابی طالب نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے۔

حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا ارشاد ہے :" جب دنیا تمہارے پاس آئے تو خرچ کرو کیونکہ وہ تم کو ہی پہنچے گی اور جب وہ تم سے منہ موڑے تب بھی خرچ کرو آخرکار وہ رہنے والی نہیں ہے -"

حضرت حسین و حسن رضہ اللّٰہ تعالٰی عنہ اور حضرت عبداللّٰہ ابن جعفر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ تینوں حج کے لیے جا رہے تھے توشہ اور زاد راہ کا اونٹ پیچھے رہ گیا تھا بھوک اور پیاس سے بے تاب ہو کر یہ حضرات راستے میں ایک بڑھیا کے خیمے میں گئے اور اس سے کہا -:"ہم کو بہت پیاس لگی ہے کچھ پینے کو دو -"

اس نے ایک بکری کا دودھ نکال کر ان حضرات کو پیش کیا -دودھ پی کر انہوں نے کہا "کچھ کھانے کے لیے لے آؤ"اس پر اس نے کہا :"کھانے کو تو کچھ موجود نہیں -تم اسی بکری کو ذبح کر کے کھا لو -"

ان حضرات نے ایسا ہی کیا -کھانے پینے سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا :"ہم قریشی ہیں -جب سفر سے واپس آئیں گے تو تم ہمارے پاس آنا ہم تمہاری اس مہربانی کا عوض دیں گے -"

یہ کہہ کر یہ حضرات رخصت ہو گئے

اس عورت کا شوہر آیا تو وہ ناراض ہوا کہ :"تو نے بکری ایسے لوگوں کی خاطر ذبح کرا دی جن سے ہماری واقفیت تھی اور نہ دوستی " اس واقعہ کو کچھ مدت گزر گئی اس عورت اور اس کے شوہر کو ناداری نے پریشان کیا یہ تباہ حال خاندان مدینہ منورہ پہنچا -یہ لوگ اونٹ کی لید چن چن کر بیچنے لگے تاکہ اپنا پیٹ بھر سکیں- ایک دن یہ عورت کہیں جا رہی تھی حضرت حسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنے مکان کی ڈیوڑھی پر کھڑے تھے -آپ نے اس عورت کو پہچان لیا اور روک کر کہا :"اے !بڑھیا تو مجھے پہچانتی ہے " اس نے کہا :"نہیں میں آپ کو نہیں جانتی" آپ نے کہا میں وہی ہوں جو فلاں روز تیرا مہمان ہوا تھا -" اس کے بعد آپ نے اس خاتون ایک ہزار بکریاں اور ایک ہزار دینار مرحمت کیے اور اپنے غلام کے ہمراہ اس کو حضرت حسین رضی اللّہ تعالٰی عنہ کے پاس بھیجا

آپ نے عورت سے پوچھا "اے خاتون! میرے بھائی نے تجھے کیا دیا "اس نے کہا :"ایک ہزار بکریاں اور ایک ہزار دینار عطا فرمائے "

حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے بھی اتنا ہی انعام اس کو دیا اور اپنے غلام کے ہمراہ اپنے بھائی عبداللّٰہ ابن جعفر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس بھیجا انہوں اس بوڑھی عورت سے پوچھا :" حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے تجھے کتنا مال دیا ہے" عورت نے کہا :"دونوں حضرات نے دو ہزار بکریاں اور دو ہزار دینار عطا فرمائے ہیں "جناب عبداللّٰہ نے بھی اس کو دو ہزار دینار اور دو ہزار بکریاں عطا فرمائیں -الغرض وہ بڑھیا چار ہزار دینار اور چار ہزار بکریاں لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے 17رمضان المبارک 40 ھ کو علی الصبح بیدار ہو کر اپنے بڑے صاحبزادے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا آج رات خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کی امت نے میرے ساتھ کجروی اختیار کی ہے اور سخت نزاع برپا کر دیا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا تم ظالموں کے لئے دعا کرو۔تو میں نے اس طرح دعا کی کہ یا الٰہ العالمین ! تو مجھے ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے اور میری جگہ ان لوگو پر ایسا شخص مسلط کر دے جو برا ہو۔ابھی آپ یہ بیان ہی فرمارہے تھے کہ مو ذ ن نے آوازدی الصلاة الصلاة ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے گھر سے چلے ۔راستے میں لوگوں کو نماز کے لئے آواز دے دے کر آپ جگاتے جاتے تھے کہ اتنے میں ابن ملجم آپ کے سامنے آگیا اور اس نے اچانک آپ پر تلوار کا بھرپوروار کیا وار اتنا سخت تھا کہ آپ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ پر جا کر ٹھہری ۔ شمشیر لگتے ہی آپ نے فرمایا :فزت برب الکعبة۔یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ۔آپ کے زخمی ہوتے ہی چاروں طرف سے لوگ دوڑ پڑے اور قاتل کو پکڑ لیا۔

متعلقہ خبریں