فیک نیوز پاکستانی الیکشنز کیلئے بڑا خطرہ

فیک نیوز پاکستانی الیکشنز کیلئے بڑا خطرہ

فیک نیوز پاکستانی الیکشنز کیلئے بڑا خطرہ 06 جولائی 2018 (10:55) 10:55 AM, July 06, 2018

پاکستان کے آئندہ انتخابات میں سوشل میڈیا اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے میں پاکستانی الیکشنز کو فیک نیوز سے کتنا خطرہ ہے اس پر میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر اسد بیگ کہتے ہیں کہ جھوٹی اور غلط خبریں جمہوریت اور جمہوری عمل کے لئے خطرناک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا امریکہ، برطانیہ، اٹلی اور ہندوستان میں واٹس ایپ کے ذریعے جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں۔ بی بی سی کا لوگو لگا کر جھوٹے سروے پھیلائے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دس کروڑ کے قریب رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں براڈ بینڈ کے پانچ کروڑ اسی لاکھ کے قریب کنکشنز ہیں جن کا استعمال ایک سے زائد افراد کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ووٹروں کی ایک بڑی تعداد آن لائن ہوگی اور یہ کہ انٹرنیٹ پر موجود غلط خبریں سیاسی عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

ضرور پڑھیں:ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ چند ساعتوں میں متوقع،نامزد ملزمان نواز شریف،مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر عدالت پیش نہ ہوئے

ضرور پڑھیں:طالبان غیر مشروط امن مذاکرات کی پیش کش کا فائدہ اٹھائیں۔پاکستان

ضرور پڑھیں:نواز شریف پانچ وقت کے نمازی ہیں،وہ اپنے ماں باپ کا احترام کرنے والے بیٹے ہیں۔ لیکن بحیثیت حکمران وہ مکمل طور پر۔۔۔۔۔۔ سابق لیگی رہنما کا اہم انکشاف

معروف صحافی اور اینکر ضرار کھوڑو اس بات سے تو متفق ہیں کہ فیک نیوز سے پاکستانی انتخابات پر اثر پڑے گا، مگر کتنا پڑے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا اسپورٹر اپنی پارٹی کے خلاف بات نہیں سنتا، نہ ہی پی ٹی آئی والا یا پیپلز پارٹی کا اسپورٹر ایسا کرتا ہے۔ پھر کون ہیں جو اس سے اثر انداز ہوں گے؟ وہ کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں وہ لوگ جو fence sitter ہیں، یعنی جنہوں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ کس کو ووٹ دیں۔اس سوال کے جواب میں کہ یہ جھوٹا مواد کہاں سے پیدا ہو رہا ہے اسد بیگ نے کہا کہ فوٹو اور ویڈیو ایڈٹنگ کی سادہ سی صلاحیت رکھنے والے افراد بھی آسانی سے ایسا مواد پیدا کر لیتے ہیں اور پاکستان جیسے ڈیجیٹل لٹریسی سے محروم ملک میں آسانی سے پھیلا لیتے ہیں۔بائٹس فار آل کے کنٹری ڈائریکٹر شہزاد احمد اس بات سے متفق ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ڈیجیٹل لٹریسی سے محروم ملک میں جہاں اس بات کی معلومات بہت کم ہیں کہ سائبر سپیس کیسے کام کرتی ہے ایسے خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں اور لوگ آسانی سے خود ساختہ اور جھوٹی تصاویر کو آگے پھیلا دیتے ہیں۔ضرار کھوڑو فیک نیوز کے پھیلنے میں ڈیجیٹل لٹریسی کی کمی کا ہاتھ اس قدر نہیں دیکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک تو ڈیجیٹل لٹریسی میں ہم سے کہیں بہتر ہیں مگر پھر بھی فیک نیوز ایک عالمی مسئلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ویسے منظم طریقے سے فیک نیوز نہیں پھیلائی جاتی جیسے ہندوتوا والوں کے ہاتھوں ہندوستان میں، بریگزیٹ کے وقت برطانیہ میں یا صدارتی مہم کے دوران امریکہ میں ہم نے مشاہدہ کیا۔منظم طور پر فیک نیوز پھیلانے کے معاملے پر شہزاد احمد کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس بات کے بہت سے ثبوت ہیں کہ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے پاس بہت منظم سوشل میڈیا کیمپینرز ہیں۔ ہم انہیں سائبر آرمیز کہتے ہیں۔ سائبر آرمی اس لئے کہ یہ لوگ وسائل اور ساز وسامان سے لیس ہیں اور اچھی تنخواہیں پا رہے ہیں۔ اور یہ سائبر آرمیز ایک دوسرے سے الیکشن سے پہلے چومکھی لڑائی لڑ رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں