پشتون تحفظ موومنٹ کیا ہے -اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے -ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سب بتا دیا

پشتون تحفظ موومنٹ کیا ہے -اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے -ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سب بتا دیا

پشتون تحفظ موومنٹ کیا ہے -اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے -ڈی جی آئی ایس پی آر میجر ... 05 جون 2018 (11:17) 11:17 AM, June 05, 2018

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ :"منظور پشتین اور محسن داوڑ سے میری ملاقات ہوئی ہے , اس میں انہوں نے مجھے کچھ باتیں بتائی ہیں ایک نقیب محسود کے بارے میں تھیں ,ان کے مسنگ پرسنز کے بارے میں تھیں اور باقی چیک پوسٹ کے مسئلے تھے ,ان کے تمام ایشو جو ہیں وہ سب فنکشنل ایشو تھے ہم نے کہا آپ جائیں جے اوسی سے ملیں وہ حل ہو جائیں گے اور پھر محسن داوڑ صاحب کا میسج بھی آیا کہ سر آپ کا بہت شکریہ مسئلے حل ہو گئے ہیں تو مسئلے تو حل ہو گئے تھے -پھر منظور احمد محسود کے نام سے منظور پشتین نام کیسے ہوا کس طریقے سے سوشل میڈیا پر یہ ایک مہم چلی - کس طرح ایک ہی دن میں پانچ ہزار اکاؤنٹ سوشل میڈیا پر افغانستان میں بن گئے -

کس طریقے سے ایک ٹوپی ملک کے باہر سے بن کے پاکستان میں آنی شروع ہو گئی, کس طریقے سے پاکستان کے باہر دس دس افراد نے پاکستان کے خلاف احتجاج شروع کر دیا , کس طریقے سے اخباروں میں آرٹیکل آنا شروع ہو گئے , ہمارا میڈیا اس کو نظر انداز کر رہا ہے شکریہ لیکن کس طرح غیر ملکی میڏیا اس کو بڑھا کر بیان کر رہا ہے " میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھاکہ :"ہمیں آرمی چیف کی سخت ہدایت تھی ان کو کسی بھی جگہ فورس سے ڈیل نہیں کرنا ایک جگہ لاور میں جلسہ شروع ہوا انہوں نے سوشل میڈیا پر بات شروع کی کہ جی ہم پکڑے گئے یہ ہو گیا وہ ہو گیا ,تو آرمی چیف نے کہا انہیں گرفتار مت کرو ان کو بولنے د ,ی پاکستان کے شہری ہیں اور اسمبلی کے اندر ہیں ہم ریاست ہیں ہم نے ان کو سنبھالنا ہے -لیکن اب ہمارے پاس بہت سے ثبوت ہیں کہ کس طرح باہر کی قوتیں ان کو استعمال کر رہی ہیں اور یہ استعمال ہو رہے ہیں -"ان کا کہنا ہے کہ :"ہمیں سوشل میڈیا پر بھی اس کے جو اثرات ہیں اس کے جو استعمالات ہیں ان پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے -ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ ہم اس پر نظر ڈال سکیں کہ کون کیا کر رہا ہے -کون پاکستان کے خلاف بات کر رہا ہے کون فوج کے خلاف بات کر رہا ہے ہم سب دیکھتے ہیں جہاں تک ہماری بات ہوتی ہے ہم برداشت بھی کر جاتے ہیں لیکن جہاں اسٹیٹ کی بات ہوتی ہے وہاں پھر ہم اس کو دیکھتے ہیں متعلقہ اتھارٹی سے بات بھی کرتے ہیں اور اسپر کام بھی کرتے ہیں لیکن جو ان کو ریٹویٹ کرتے ہیں اور ان کو شاباشی دیتے ہیں ان کا ہم کیا کریں "

متعلقہ خبریں