زاویہ از اشفاق احمد 2-بچوں کی نفسیا ت: آپ سب کی خدمت میں میرا سلام پہنچے -

زاویہ از اشفاق احمد 2-بچوں کی نفسیا ت: آپ سب کی خدمت میں میرا سلام پہنچے -

زاویہ از اشفاق احمد 2-بچوں کی نفسیا ت: آپ سب کی خدمت میں میرا سلام پہنچے - 05 جولائی 2018 (23:48) 11:48 PM, July 05, 2018

بچے کی نفسیات کے بارے میں بہت سی دلیلیں ایک دوسرے کے متضاد بھی ملتی ہیں کہ یہ بچہ کام کرتا ہے یا نہیں کرتا ,تو میرا اس سے کوئی تعارف نہیں تھا اور میں سائیکا لوجی کے بارے میں اتنا کچھ نہیں جانتا تھاجتناکہ میرے ہمسفر جانتے تھے -میرا یہ واقع 1952 ء کا ہے-اور یہ مجھے شہزاد کی فرمائش پر پھر یاد آرہا ہے -بہت دیر کی بات ہے- میں 1952 میں ملک روم تھا-روم یونیوورسٹی میں اردو پڑھاتا تھا اور ساتھ ساتھ فرانسیسی اور اطالوی پڑھاتا تھا-وہاں پر ہمارا ایک دوست تھامسودی ریاک-وہ بہت اچھا مصور تھا -میری بہت اچھے سے مراد یہ ہے کہ اس کی تصویریں گاہے بگاہے بک جاتیں تھیں اور وہ ہمارا دوست تھا -دوست تھا تو اس کے ساتھ ادھر اللے تللے کرنے میں گھوم پھر لیتا تھا -وہ اچھا اور شریف آدمی تھا -ہمیں بہت آسانی ہوتی تھی,کیونکہ اس کے پاس کچھ پیسے ہوتے تھے-ہم تین دوست تھے ریاک, میں اور ایک ہری چند,جو ہندوستان کا تھا- ہم اس تاڑ میں رہتے تھے کہ کوئی اچھا سا موقع ہمیں ایسا ملے جہاں پر ہم پیسے خرچے بغیر گھوم سکیں اور اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکیں کیونکہ پتا نہیں کتنی دیر یورپ رہنا ہے -تو ان دنوں 31دسمبر 1952ء کو ریاک کی تصویر بک گئی تو اس نے کہا میں تمہاری دعوت کروں گا -وییا وینی تو کے اوپر ,جہاں پر ایمبیسیز ہیں -بہت قیمتی سڑک ہے جیسے ہمارے ہاں شارع قائد اعظم ہے -اس ریسٹورنٹ میں جس کا نام علی بابا چالیس چور تھا -وہ ایک بہت بڑا ریسٹورنٹ  تھا ,ایک بیسمنٹ میں- رستوران میں بڑے خوبصورت چالیس مرتبان تھے,ستونوں کی جگہ بنے ہوئے-اور  اس کے اوپر چھت اٹھائی ہوئی تھی-اور اس کے اندرآرکسٹرا بڑ اخوبصورت بجتا تھا ہماری خوش قسمتی کہ وہاں عام طور پرایکٹر لوگ زیادہ جاتے تھے عام آدمی کی وہاں اتنی پہنچ نہیں تھی کہ وہاں پہنچ سکتا یہ جو ہمارا انتھونی کوئن تھا ,اس کو وہاں آنے کا بہت شوق تھا -انتھونی کوئن کی ایک بڑی عجیب وغریب عادت تھی کہ 

عورتوں جیسا مزاج,تھا اس کا -ہر وقت اپنے ساتھ ایک شیشہ رکھتا تھا,دومنٹ بعد نکال کے تھوڑی سی لپ سٹک لگاتا -اتنا نازک مزاج اور یوں کر کے بال -انتھونی کوئن سے ہم لوگ بہت متاثر تھے اور پھر اس سے وہاں ملنا ہوا -انہی دنوں ہمارے مشرقی پاکستان کے  ربیع الدین وہاں پرفلم ڈائریکشن کی  کچھ تعلیم لینے آگئے-ہماری ایوننگ کلاسز تھیں ,اس لیےمیں  انہوں نے کہا چھ  مہینوں کا کورس ہے اس میں آپ کو پتہ چلے گا کہ ڈراما کیسے لکھا جاتا ہے لائیٹنگ کیسے کی جاتی ہےتو چینی چتا ہم جانے لگے-

ہمارے جو استاد تھے,پرنسپل تھے,ریکٹر تھے وہ تھے وکٹوریہ ڈسیکا-ان کی ایک بہت مشہور بائیسکل تھی-تو ڈسیکا صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا-لیکن ہم ڈسیکا صاحب سے نہ تو اتنا ڈرتے کیونکہ ان کا مزاج اچھا نہ تھا ,اور نہ ہی ان سے اتنے زیادہ متاثر تھے جتنےان ایکٹروں سے جن کا کہ پینترا اور طرح کا تھا -تو ایک دفع انہوں نے کلاس میں ہم سے ایک سوال پوچھا:"تو بھائی بتاؤکہ سب سے زیادہ مشکل رول کونسا ہے جو ایکٹر کر سکتا ہے"-مجھے بات یاد آگئی-ہم سب نے ہاتھ  کھڑے کیے تقریباً لڑکے لڑکیوں کا مشترکہ جواب تھا کہ ہنچ بیک آ ف نوٹرے ڈم کا رول ہے-تو استاد محترم نے فرمایادنیا میں سب سے آسان رول  ہنچ بیک آف نوٹرے ڈم کارول  ہے کیونکہ ٹوٹی ہوئی ناک,گندی شکل بدنصیب آدمی ,ساری ہمدردیاں اس کے ساتھ,وہ رول تو کوئی بھی آدمی کر سکتا ہے -وہ تو سب سے آسان ہے-ہنچ بیک آف نوٹرے ڈم اگر کسی ایک نے کیا ہے تو آپ اسے بڑا ایکٹر نہ مانیں-مشکل ترین رول  یہ  ہے  کہ ایک عام گھرانے کا ایک عام باپ  ہے-ٹوپی اتار کر رکھتا ہے,چھتری پکڑ کر رکھتا ہے-دفتر سے   آتا ہے اورپھر اس کو اپنا رول کرنا ہے جو سب سے مشکل ہے-وہ  کیا  کرے   اس  کے پاس کوئی سہارا نہیں-

یہ بات دوسری طرف چلی گئی,تو ہم چلے گئے علی بابا چالیس چوروالے ریسٹورنٹ میں -31 دسمبر کی رات میں تمہاری وہاں لگواؤں گا-اور تم دیکھو گے کہ دن کس طرح طلوع ہوتا ہے اورسال کس طرح ختم ہوتا ہے-کیاکیا کچھ ہنگامہ ہوتا ہے ہم بڑے خوش تھے-ہم وہاں چلے گئے تو جا کے جب دیکھا تو چھما چھم بینڈ باجے بج رہے ہیں اور دنیا جہاں کے ایکٹر ایکٹرس آئے ہوئے ہیں سارے تقریباً وہاں پر موجود تھے اور وہ بڑا اچھا زمانہ تھا- جب پوسٹ واسل میں اٹلی کی بن رہی تھی عمارتیں, جب وہاں گئے تو وہاں سٹیج پر بلیک نیگرو تھے-اس زمانےمیں بلیک ڈرمر کا بہت رواج تھا- اب نہیں رہا-بیٹ بہت پیاری تھی-ہر ایک کا ناچنے کو دل کر رہا تھا -اچانک ریاک اٹھا ,ہم سمجھے شائد کوئی اپنی چیز ڈرنک, کوئی سیگریٹ لینے گیا ہے-جا کر ان سے ملا ,میوزک والوں سے-پھر لوٹ کر واپس آگیا تو اچانک  ا یک اعلان ہوا-سینوری سینوری بونیرا چےاون کانتن تے پاکستان وترا دی نصرالی میں تو سمجھا کہ شائد ہمارے درمیان کوئی پاکستانی موجود ہے جو بڑا اچھا گاتا بجاتا ہے-میں نے کہا شائد ہو گا-میں تھوڑا سا کانپا بھی -اعلٰی اے ای پروفسورے اعلٰی اونستی زاوی روماسواو نامے کاغذ اٹھایا اشفاق احمد-(جاری ہے)

متعلقہ خبریں