میاں نواز شریف صاحب نے کہا ہے کہ میں خود آ کے عدالت میں کھڑے ہو کر فیصلہ سننا چاہتا ہوں انہوں نے کیا آسکر ایوارڈ۔۔۔۔۔۔۔ معروف صحافی کا مذاق سے بھرپور تجزیہ

میاں نواز شریف صاحب نے کہا ہے کہ میں خود آ کے عدالت میں کھڑے ہو کر فیصلہ سننا چاہتا ہوں انہوں نے کیا آسکر ایوارڈ۔۔۔۔۔۔۔ معروف صحافی کا مذاق سے بھرپور تجزیہ

میاں نواز شریف صاحب نے کہا ہے کہ میں خود آ کے عدالت میں کھڑے ہو کر فیصلہ سننا ... 05 جولائی 2018 (22:06) 10:06 PM, July 05, 2018

اوریا مقبول جان نے پروگرام حرف راز میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ :" میاں نواز شریف صاحب نے کہا ہے کہ میں خود آ کے عدالت میں کھڑے ہو کر فیصلہ سننا چاہتا ہوں انہوں نے کیا آسکر ایوارڈ لینا ہے یہاں پہ آ کے- آپ اس قوم کو مذاق سمجھتے ہو آپ یہاں پہ آزادی کی تحریک نیلسن مینڈیلا کی تحریک چلا رہے ہو آپ کے اوپر بددیانتی کا ایک مقدمہ ہے اور پچھلے دو سال سے عدالت آپ سے سوال کر رہی ہے کہ میاں محمد نواز شریف صاحب آپ کے پاس جو جائیداد ہے وہ آپ نے کہاں سے بنائی ہے پاکستان کا یہ پہلا کیس ہے جس میں ایک مجرم نے ملزم نے یا جو بھی ہے اس نے اپنے حق میں ایک کاغذ پیش نہیں کیا -آپ اگر ایک گھڑی خریدتے ہیں آپ اس کی رسید دکھاتے ہیں یا آپ دکاندار کے پاس دو چار لوگوں کو لے کر جاتے ہیں کہ آپ نے وہ گھڑی خریدی ہے - ان کا سارا پلان تباہ ہو رہا ہے پلان یہ تھا کہ اس فیصلےمیں یہ تاخیر کروائیں گے کبھی پاکستان کی تاریخ میں دس دس دن بھی جرحیں ہوئیں ہیں یہ جو ٹرائل کورٹ ہے اس کے لیول کی کورٹ میں نے نو سال کی ہے کبھی ایسا نہیں ہوا صرف ایک دن جرح ہوتی ہے ٹرائل کورٹ میں بحث ہو رہی ہوتی ہے ریکارڈ ہو رہی ہوتی ہے صرف ایک دن چاہیے ہوتا ہے اب سب کچھ ریکارڈ ہوتا ہے اور جج کو اگلے دن ہی فیصلہ سنا دینا چاہیے اب جو ان کا بیان لیا گیا ان کو آپشن دیا گیا کہ آپ اوتھ لے کر اللّٰہ کی قسم کھا کر بیان دیں گے جو لوگ اللّٰہ کی قسم کھانے سے انکار کر دیں اور ایسے گول سا منہ بنا کر کھڑے ہوں -ان کا یہ خیال تھا کہ الیکشن کے آگے فیصلہ چلا جائے الیکشن ہوں گے ہنگامہ ہو گا اور پھر الیکشن کے بعد دیکھی جائے گی ہم نے پہلے دن کہا تھا جس دن مجھے پتہ چلا تھا کہ پرویز رشید صاحب بھی ساتھ چلے گئے ہیں ان کا یہ فیملی بزنس تو نہیں ہے نا تو یہ لوگ واپس نہیں آئیں گے -فیصلہ آئے گا تو یہ اپیل کریں گے -پہلے آپ کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا پڑتا ہے گرفتاری دینی پڑتی ہے اور پھر اپیل ہوتی ہے - اگر نیب نے کوئی رعایت دی تو بائیس کروڑ عوام عدلت عالیہ پر انگلی اٹھائے گی روز لوگوں پر مقدمات ہوتے ہیں یہ ٹرائل کیس ہے -اگر وہ سننا چاہتے ہیں تو ہم ڈی ایس این جی پوری کی پوری بندوبست کر دیتے ہیں خود بھی جدہ میں جب ہوتے تھے تو ایک سکرین لگی ہوتی تھی اس پر پرانے پرانے گانے سنا کرتے تھے تو ان کو بھی سنا دیں گے یہ کوئی طریقہ ہے کہ ہم خود عدالت میں کھڑے ہو کر سننا چاہتے ہیں -دونوں کو کم سے کم سزا ہو گی چودہ سال اور اگر اس سے کم ہوئی تو وہ صفدر کو ہو گی -

ضرور پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جان بوجھ کے ,نیت کیساتھ یہ بل ڈرافٹ کیا گیا تھا تا کہ قادیانیوں کی حمایت حاصل کی جا سکے ۔۔۔۔۔۔اوریا مقبول جان کا دعوی .

ضرور پڑھیں: جناب رسول صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تُم.سے پہلے قومیں اس لئیے تباہ ہوئی تھیں کہ طاقتور کیلئے قانون اور ہوتا تھا اور کمزور کیلئے اور ،جو سارا ریلیف میاں نواز شریف صاحب اور اُن کی فیملی کو ملا ہے کیا میاں نواز شریف کے علاوہ کسی کو یہ اختیار ملا ہے کہ۔۔۔۔۔علی مُحمد خان کا انکشاف

دوسری سزا ہو سکتی ہے اثاثے ضبط منجمد نہیں ضبط ہو سکتے ہیں -یہ کس طرح ہو گا ڈر انکو یہ ہے کہ یہاں سے کیس جائے گا لندن کی عدالت میں یہ کہیں گے کہ انکے اثاثے ناجائز ہیں اور لندن میں ان سے پوچھا جائے گا سر اس کی رسید تو یہ پاکستان تو نہیں ہے جس دن یہ ڈگری لندن کی عدالت میں گئی تو اس دن ان کے اثاثے ختم -اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ دادا نے پوتے کو دی ہے جس دن پاکستان کی عدالت کی یہ ڈگری لندن کی مجسٹریٹ عدالت میں پہنچ گئی اس دن میاں نواز شریف صاحب کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی اب ان کو یہ پتہ ہے کہ اس وقت دنیا میں نا جائز اثاثوں کے ساتھ نہیں رہا جا سکتا - کتنے کیسز آپ کے سامنے پیش کیے ہیں کہ ورلڈ بینک والے سارے پیسے اٹھا کے واپس اس ملک کے اندر پھینک دیتے ہیں - تو میاں صاحب اگر آپ کو اتنا ہی شوق ہے فیصلہ سننے کا آئیں آپ کا ریڈ کارپٹ ویلکم کیا جائے گا کہہ ایسے رہے ہیں جیسے وزیر اعظم کا حلف اٹھانے آ رہے ہیں -اس قوم کو بیوقوف بنانا بند کریں -"

متعلقہ خبریں