صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں سے امریکی معیشت کو خطرہ ہے، امریکی ماہرین کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں سے امریکی معیشت کو خطرہ ہے، امریکی ماہرین کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں سے امریکی معیشت کو خطرہ ہے، امریکی ماہرین کا ... 05 جولائی 2018 (14:16) 2:16 PM, July 05, 2018

امریکی تجارتی شراکت داروں کو نئے محصولات کی دھمکی کے بعد صدر ٹرمپ نے تجارت کے عالمی ادارے کو اپنا ہدف بنایا۔\

ضرور پڑھیں:غزہ میں اسرائیلی فوج کا فلسطینی خواتین پر حملہ

ضرور پڑھیں:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دو اہم رہنما امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

ضرور پڑھیں:بالی ووڈ اداکار عرفان خان کیبعد بالی ووڈ ادکارہ سونالی بیندرے بھی مہلک مرض میں مبتلا

ضرور پڑھیں:طالبان لیڈر نے افغانستا ن میں امن کا واحد راستہ بتا دیا۔

انہوں نے کہا ہےکہ وہ ہمارے ساتھ کئی برسوں سے بہت برا برتاؤ کر رہے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں ڈبلیو ٹی او کے ساتھ بہت نقصان ہو رہا تھا۔ اور ا ب ہم کوئی منصوبہ بندی نہیں کر رہے۔ لیکن اگر وہ ہمارے ساتھ مناسب برتاؤ نہیں کرتے تو ہم پھر ہم کچھ کریں گے۔ٹرمپ نے یہ بات ان نیوز رپورٹس کےبعد کہی کہ وائٹ ہاؤس نے ایک بل کا مسودہ تیار کر لیا ہے جو صدر کو ڈبلیو ٹی او کےدائرہ اختیارسے باہر محصولات کے ریٹس طے کرنے کی اجازت دے گا۔ اس سے بین الاقوامی تجارتی ادارے کے ساتھ امریکی وابستگیاں موثر طور پر ختم ہو جائیں گی۔اسی دوران دوسرے ملک جوابی کارروائی کر رہے ہیں ۔کینڈا نے اسٹیل اور المونیم پر امریکی ٹیکسوں کے جواب میں امریکہ کے 12.6 ارب ڈالر کے سامان پر محصولات عائد کر دیے ہیں ۔چین سویا بین سمیت امریکی سامان پر 34 ارب ڈالر کے جوابی محصولات لگانے کے لیے تیار ہے۔یورپی یونین جولائی کے وسط تک اسٹیل کی در آمدات ختم کرنے کے لیے اقدامات شروع کر سکتا ہے۔ یورپی یونین کی تجارتی کمشنر سسیلیا مالم سٹرام کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ پر یہ بالکل واضح تھا کہ اگر وہ المونیم اور اسٹیل پر محصولات عائد کریں گے تو ہم انہیں غیر قانونی سمجھیں گے اور اسے عالمی ادارہ تجارت کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری نہیں سمجھیں گے اور اس کے نتائج بر آمد ہوں گے۔یورپی یونین نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ٹرمپ غیر ملکی کاروں پر پہلے سے زیادہ سخت کنٹرول کرنے کے اپنے منصوبوں پر عمل کریں گے تو وہ امریکی سامان پر 290 ارب ڈالر کے محصولات عائد کر دے گا۔اگرچہ صدر کا إصرار ہے کہ ان کے حربے امریکیوں کےلیے بہتر تجارتی معاہدوں کی وجہ بنیں گے تاہم بہت سے تجزیہ کار متفکر ہیں۔

متعلقہ خبریں