طالبان لیڈر نے افغانستا ن میں امن کا واحد راستہ بتا دیا۔

طالبان لیڈر نے افغانستا ن میں امن کا واحد راستہ بتا دیا۔

طالبان لیڈر نے افغانستا ن میں امن کا واحد راستہ بتا دیا۔ 05 جولائی 2018 (14:00) 2:00 PM, July 05, 2018

امریکی معاون نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے افغانستان اور پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد کہا ہے کہ ہمیں افغانستان میں گزشتہ عید کے موقع پر سہہ روزہ فائربندی کیلئے حکومت اور طالبان کی طرف سے رضامندی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے امن مذاکرات کے ذریعے مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا ہوگا۔

ضرور پڑھیں:غزہ میں اسرائیلی فوج کا فلسطینی خواتین پر حملہ

ضرور پڑھیں:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دو اہم رہنما امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

ضرور پڑھیں:بالی ووڈ اداکار عرفان خان کیبعد بالی ووڈ ادکارہ سونالی بیندرے بھی مہلک مرض میں مبتلا

ایلس ویلز نے افغانستان اور پاکستان کا چار روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے، جس دوران اُنہوں نے افغانستان میں قیام امن سے متعلقہ تمام فریقین سے بات چیت کرتے ہوئے اہم گفت و شنید کی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے علاوہ طالبان اور عسکریت پسندوں کی طرف سے امن کیلئے حمایت غیر معمولی ہے جو سہ روزہ فائر بندی کے دوران نظر آئی۔طالبان کے بہت سے لوگوں نے اس فائر بندی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے شہروں کا آزادانہ طور پر دورہ کیا اور اُنہیں سوشل میڈیا پر آئس کریم کھاتے، سیلفیاں بناتے اور افغان فوجیوں کے ساتھ عید کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس موقع پر طالبان کے کئی کارکنوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل لڑائی سے تنگ آ چکے ہیں۔تاہم، جب افغان صدر اشرف غنی نے فائر بندی میں توسیع کرنے کا اعلان کیا تو طالبان سے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

طالبان لیڈر مولانا ہیبت اللہ اخونزادہ نے اپنے عید کے پیغام میں کہا تھا، ’’ان تمام مصیبتوں سے خود کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکی اور دیگر قابض فوجیں ہمارے ملک سے نکل جائیں اور افغانستان میں وسیع تر حمایت کے ساتھ ایک جامع اور آزاد اسلامی حکومت قائم ہو۔‘‘

متعلقہ خبریں