مقبوضہ کشمیر کے شہر سرینگر اورآزادکشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد کے درمیان ٹرک سروس کے لیے چکوٹھی کنٹرول لائن کے قریب منڈی قائم کی جائے گی

مقبوضہ کشمیر کے شہر سرینگر اورآزادکشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد کے درمیان ٹرک سروس کے لیے چکوٹھی کنٹرول لائن کے قریب منڈی قائم کی جائے گی

مقبوضہ کشمیر کے شہر سرینگر اورآزادکشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد کے درمیان ... 05 جولائی 2018 (13:20) 1:20 PM, July 05, 2018

مقبوضہ کشمیر کے شہر سرینگر اورآزادکشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد کے درمیان ٹرک سروس کے لیے چکوٹھی کنٹرول لائن کے قریب منڈی قائم کی جائے گی ۔جہاں سے مقامی آبادی اور تاجروں کو سستے داموں سبزی، پھل اور دیگر اشیاء تجارت مہیا ہوں گی۔

بین الکشمیر سفر و تجارت کے نگران ادارے ٹاٹا کے سفر و تجارت کے لیے چکوٹھی ٹرمینل پر سہولت کار، راجہ فیصل نے امریکی خبر رساں ادارے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ کنٹرول لائن کے قریب منڈی کے قیام سے مقامی لوگوں اور تاجروں کے علاوہ حکومت کو بھی ٹیکس کی مد میں آمدن ہوگی اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

راجہ فیصل نے کہا کہ اس وقت تاجروں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کسٹم کا ہے، کیونکہ پاکستانی کسٹم حکام کشمیر سے باہر جانے والا مال ضبط کرلیتے ہیں اور منڈی کے قیام سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا ۔بین الکشمیر تجارت سے منسلک تاجر خوشحال خان کا کہنا ہے کہ منڈی کے قیام کے بعد تاجر مقامی ضرورت سے زائد مال قانونی طور پر پاکستان کی منڈیوں میں فروخت کے لیے لے جا سکیں گے اور مقامی لوگوں کو سستے نرخوں پر روزمرہ ضرورت کی اشیا مہیا ہونگی۔ انہون نے کہا کہ منڈی کے قیام سے ایل او سی کے قریبی علاقوں کے لوگوں کو روزگار مہیا ہوگا۔

ضرور پڑھیں:عالمی ماہرین کے مطابق مریم نواز ,کیپٹن صفدر اور نواز شریف کو سزا ملنے کے پچانوے فیصد چانس ہیں جبکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔اہم حقائق پڑھئے

ضرور پڑھیں:غزہ میں اسرائیلی فوج کا فلسطینی خواتین پر حملہ

ضرور پڑھیں: اردن کا شامی مہاجرین کیحق میں بڑا اقدام

کشمیر کے دو حصوں کے درمیان ہفتہ وار تجارت کے ذریعے کنٹرول لائن آرپار سبزی، پھلوں، کپڑے، مصالہ جات اور جڑی بوٹیوں سمیت 21 اشیا کی تجارت ہوتی ہےلیکن آزاد کشمیر میں منڈی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے جانے والا مال راولپنڈی اور اسلام آباد کی منڈی سے خرید کر واپس لاکر فروخت کرنا پڑتا ہے جس سے اسکی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ کشمیر سے باہر باہر جانے والے سامان تجارت کو پاکستان کے کسٹم حکام ضبط کر لیتے ہیں جسکی وجہ سے آئے روز ایل او سی تجارت سے جڑے تاجروں اور کسٹم حکام کے درمیان تصادم اور ہڑتالیں ہوتی رہتی ہیں۔’جنس برائے جنس‘ کی بنیاد پر بین الکشمیر تجارت ہفتے میں چار روزآزاد کے دارالحکومت مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان کنٹرول لائن چکوٹھی کے راستے اور راولاکوٹ اور بھارتی کشمیر کے شہر پونچھ کے درمیان کنٹرول لائن تتری نوٹ کے کنٹرول کے راستے تجارت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں