متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) میں پاکستانیوں کی ڈیڑھ سو ارب ڈالرز مالیت کی جائیدادیں اور اثاثے موجود ہیں۔

متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) میں پاکستانیوں کی ڈیڑھ سو ارب ڈالرز مالیت کی جائیدادیں اور اثاثے موجود ہیں۔

متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) میں پاکستانیوں کی ڈیڑھ سو ارب ڈالرز مالیت کی ... 04 ستمبر 2018 (14:03) 2:03 PM, September 04, 2018

متحدہ عرب امارات ( یو اے ای ) میں پاکستانیوں کی ڈیڑھ سو ارب ڈالرز مالیت کی جائیدادیں اور اثاثے موجود ہیں۔اس بات کا انکشاف عدالتِ عظمیٰ پاکستان میں سوموار کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینسی فرم اے ایف فرگوسن نے تیار کرکے عدالت عظمیٰ میں پیش کی ہے۔اس کو پاکستانیوں کے بیرون ملک بنک کھاتوں اور جائیدادوں کی تفصیل مرتب کرکے پیش کرنے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانیوں کے صرف یو اے ای میں اثاثوں اور جائیدادوں کے ان اعداد وشمار سے احتیاط کا معاملہ کیا جائے۔تاہم ایف آئی اے کی عدالت میں پیش کردہ سمری میں یو اے ای میں موجود پاکستانیوں کے اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ 110 ارب ڈالرز لگایا گیا ہے۔

چیف جسٹس ، جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے بیرون ملک پاکستانیوں کے اثاثوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران میں عدالت میں موجود متعلقہ حکام سے سوال کیا کہ ’’ ایمنسٹی اسکیم کے باوجود بیرون ملک اتنی بھاری رقوم اور اثاثے موجود ہیں‘‘ ۔اس موقع پر بنک دولت پاکستان کے گورنر طارق باجوہ نے فاضل عدالت کو شناختہ فنڈز کی بازیابی اور واپسی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بتایا ۔

انھوں نے کہا کہ ’’ یو اے ای میں جن 125 افراد کے اثاثوں کا پتا چلا ہے، انھیں نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔اگر وہ بیان حلفی میں یہ لکھتے ہیں کہ ان کے پاکستان سے باہر اثاثے ہیں تو پھر ان سے تفتیش کی جائے گی اور ان پر ٹیکس عاید کیا جائے گا لیکن اگر وہ اس سے انکار کرتے ہیں تو پھر ہم یو اے ای کی حکومت سے مدد کے لیے کہہ سکتے ہیں اور ان سے بے نامی قانون کے مطابق اقدام کے لیے کہیں گے‘‘۔

انھوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی ادارہ تحقیقات ( ایف بی آئی ) ،قومی احتساب بیو رو ( نیب) اور دوسری ایجنسیوں کی بھی مدد حاصل کی گئی ہے۔چیف جسٹس نے اس کیس میں اب تک ہونے والی پیش رفت پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ریمارکس کہا کہ جو لوگ بیرون ملک اپنی جائیدادوں کو چھپا رہے ہیں،ان پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

ایک آڈٹ فرم کے سربراہ شبر زیدی نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان سے بیرون ملک دولت دو طریقوں سے منتقل کی گئی ہے۔ ایک حوالہ اور دوسرا بنکوں کے ذریعے ۔بنکوں کے ذریعے رقوم کو زرعی آمدن ظاہر کرکے بیرون ملک منتقل کیا جاتا ہے۔

اس موقع پر بنچ کے رکن جسٹس عمر عطا بندیال نے گورنر اسٹیٹ بنک سے سوال کیا کہ کیا پاکستان سے باہر غیرملکی زر مبادلہ منتقل کرنے پر کوئی پابندی عاید ہے۔اس پر طارق باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ صرف دس ہزار ڈالرز تک رقم بیرون ملک لے جانے کی اجازت ہے۔نیز انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لندن میں جائیدادیں رکھنے والے 225 پاکستانیوں کی بھی ایک فہرست حاصل کر لی گئی ہے۔

اس دوران میں اٹارنی جنرل منصور علی خان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ نئی حکومت بیرون ملک سے پاکستانی دولت واپس لانے میں سنجیدہ ہے۔وزیراعظم کی قیادت میں اس سلسلے میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دے دی گئی ہے اور حکومت اس ضمن میں عدالتِ عظمیٰ سے رہ نمائی کی خواہاں ہے‘‘۔

متعلقہ خبریں