اصل مقابلہ ہے عمران خان اور نوازشریف کا ہے۔شیخ رشید

اصل مقابلہ ہے عمران خان اور نوازشریف کا ہے۔شیخ رشید

اصل مقابلہ ہے عمران خان اور نوازشریف کا ہے۔شیخ رشید 04 جون 2018 (23:56) 11:56 PM, June 04, 2018

شیخ رشید کا کہنا ہے کہ :" اصل مقابلہ ہے عمران خان اور نوازشریف کا ہے -کیونکہ ہر کوئی عمران خان اور شیخ رشید نہی ہوتا کہ دس سال تک ڈٹ کر کھڑا رہے سو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان دو کے درمیان مقابلہ کو گا اور باقی لوگ سب کے سب جمعہ جنج کے ساتھ ہوں گے - " عمران خان اور آصف زرداری کے اتحاد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ :"ضروری نہیں ہر بات کا جواب دیا جائے بعض دفعہ خاموشی بہتر ہوتی ہے اور وقت سب سے بڑا تجزیہ نگار ہوتا ہے -ضروری نہیں زرداری کے ساتھ چلے یہ بلاول کے ساتھ بھی چل سکتا ہے -" ان کا کہنا تھا کہ :"آج صبح جب میں اپنے علاقے میں کمپین کے لیے نکلا یہ زرا آئین سازوں کا علاقہ ہے تو انہوں نے مجھے کہا آپ کب جا رہے ہیں عمران خان کی طرف تو میں نے کہا آج کل زرا ٹکٹوں کا مسئلہ ہے تو میں نہیں جا رہا تو انہوں نے کہا کہ آپ جائیں تو سہی پتہ تو کریں عمران خان کو کہیں کہ اد ھر شہباز شریف کے کوئی ایجنٹ تو نہیں رکھے ہوئے جو پنجاب کی سیاست کو خراب کر رہے ہیں -

وہاں پہ ہی ایک بڑے ادارے کے ہیڈ رہے ہیں ایکس ہیڈ ہیں وہ رہتے ہیں انہوں کہا کہ عمران خان کو کہنا کہ شہباز شریف کی حکومت جو ڈیل کر رہی ہے اس پر زرا نظر رکھے وہ مجھے مشکوک نظر آرہی ہے جو وہ مزاکرات کر رہے ہیں وہ ہی خراب نظر آ رہے ہیں تو میں نے کہا کیوں جی مجھے مروانا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں تجھے روزے میں یہ امانت دے رہا ہوں تو خان کو بتا دینا -تو میں نے کہا جی میں کہہ دو ں گا :" پی ٹی آئی کے نام واپس لینے پر انہوں نے کہا کہ :" لوگوں میں یہ رائے بڑھ رہی ہے کہ پنجاب کے مسئلے کو مس ہینڈل کیا گیا ہے -انہوں نے نام واپس لیا لوگوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے یہ ایک جمہوری انداز ہے لیکن میں ہوتا تو یہ نام واپس نہ لیتا -کیونکہ ایک آدمی جب تک بیس سال تک آپ کے ساتھ رہا تو وہ ٹھیک تھا لیکن اب وہ عمران خان کے ساتھ آیا ہے تو وہ غلط ہو گیاہے -آج میں نے سنا ہے کہ کھوسہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ میرا بیٹا بھی شامل ہوا ہے پارٹی میں اور فواد چودھری کہہ رہے ہیں نہیں ہوا ہے -تو یہ باتیں پبلک کے لحاظ سے بڑی غلط ہیں یہ تو میں خان صاحب کو ہی کہہ سکتا ہوں باقی تو بہت بڑی پارٹی ہے اور وہ بہتر فیصلے کر سکتی ہے " انہوں نے مزید کہانہہ :"میاں نواز شریف صاحب کو ایک ہی بیان رٹا ہوا ہے -چیف جسٹس پاور کا ایک ٹاور ہیں ادارے اور فوج پاور کا ایک ٹاور ہیں - اور اسوقت چیف جسٹس ثاقب نثار بہت سے فیصلوں میں حاوی ہو رہے - ان کا آرڈر تھا کہ پچیس جولائی کو انتخابات ہوں گے -یہ اتنا آسان نہیں ہے -ابھی بہت سے کام کرنے ہیں یہ میرا تجزیہ بھی ہے اور میری سوچ بھی گار پندرہ دن الیکشن لیٹ ہو جائیں تو عوام سے رابطہ کی بہتر فضا میسر آسکتی ہے لیکن یہ چیف جسٹس کا آرڈر ہے تو ٹھیک ہے "

متعلقہ خبریں