بھارتی دہشت گردی کا کلبھوشن یادیو کے طور پر ثبوت موجود ہے۔جنرل میجر جنرل آصف غفور

بھارتی دہشت گردی کا کلبھوشن یادیو کے طور پر ثبوت موجود ہے۔جنرل میجر جنرل آصف غفور

بھارتی دہشت گردی کا کلبھوشن یادیو کے طور پر ثبوت موجود ہے۔جنرل میجر جنرل ... 04 جون 2018 (19:17) 7:17 PM, June 04, 2018

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہماری امن کی خواہش کو کم زوری نہ سمجھا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ بھارت ہماری سول آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے ، اور مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ہم سیز فائر معاہدے کو اہمیت دیتے ہیں، بھارت نے 13 سال میں جنگ بندی کی 2 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کیں، بھارتی فائرنگ سے نقصان نہ ہونے کی وجہ سے ہم ردعمل نہیں دیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیز فائر کے معاملے پر بھارتی میڈیا بھی پاکستان کی طرف اپنا رخ موڑ دیتا ہے ، اس سلسلے میں پاکستانی میڈیا کی جانب سے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا۔

بھارت میں حالیہ دو واقعات ہوئے جس کے ثبوت مانگ رہے ہیں لیکن بھارت ثبوت دینے کو تیار نہیں ہے ، جب کہ پاکستان میں دہشت گردی کے کئی واقعات ایسے ہیں جس کا ثبوت بھی موجود ہے لیکن بھارت اس کو ماننے سے انکار کر رہا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی دہشت گردی کا کلبھوشن یادیو کے طور پر ثبوت موجود ہے ، بھارتی صحافیوں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کرایا گیا، امید ہے بھارتی صحافیوں نے جو دیکھا اس سے آگاہ کیا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ وانا میں فوج کا کسی سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، مقامی آبادی کا آپسی جھگڑا تھا، جسے فوج اور ایف سی نے ختم کرایا، زخمی افراد کو فوجی ہیلی کاپٹرز میں اسپتال پہنچایا گیا، جس کے باعث لوگوں کی جانیں بچیں، سوشل میڈیا پر فوج کیخلاف پروپیگینڈا کیا جارہا ہے ، وانا میں کسی بھی بچی کی موت واقع نہیں ہوئی، ایسے پروپیگینڈے سے فوج کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ کارروائی کرے۔

انہوں نے واضح کہا کہ پاکستانی میڈیا سے ہمیشہ رابطے میں رہے ہیں، پاک فوج نے کبھی میڈیا مالکان یا صحافیوں کو اپنی من پسند خبر چلانے اور ناپسندیدہ خبر روکنے سے متعلق کوئی گائیڈ لائن نہیں دی، اگر ایسا ہوا ہے تو اینکر پرسنز اپنے آج کے ٹاک شوز میں ضرور اس پر بات کریں، میڈیا نے ملک کیلئے بہت مثبت کردار ادا کیا، ہمیں اپنی فوج پر یقین رکھنا چاہئے۔

اسد درانی کی کتاب سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اسد درانی اور عام افسر کے کتاب لکھنے میں فرق ہے ، سابق فوجی افسر نے کتاب لکھنے سے پہلے این او سی نہیں لیا، اسد درانی کیخلاف انکوائری جلد مکمل اور نتیجہ بھی سامنے آجائے گا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے ریٹائرمنٹ کے بعد کے واقعات کا ذکر کیا ہے ، سروس کے بعد کے معاملات پر بات کرنا ٹھیک نہیں، فوج کیخلاف الزامات غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمہوری حکومت کی مدت پوری ہونے پر ہمیں سب سے زیادہ خوشی ہے ، الیکشن میں سیکیورٹی فورسز کو گھیسٹنا نہیں چاہتے، 2018 الیکشن کا سال ہے ، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے

متعلقہ خبریں