جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے ن لیگ پر پھر بجلی گرا دی۔

جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے ن لیگ پر پھر بجلی گرا دی۔

جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے ن لیگ پر پھر بجلی گرا دی۔ 04 جون 2018 (16:29) 4:29 PM, June 04, 2018

اسلام آباد: پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ اور نیب کے گواہ واجد ضیا نے احتساب عدالت میں جرح کے دوران بیان دیا کہ شریف خاندان کی گلف اسٹیل کا 1980 کا معاہدہ جعلی تھا۔ احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث گواہ واجد ضیاء پر جرح جاری رکھیں گے۔ نواز شریف کے وکیل نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا پر جرح کی۔

حتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔ واجد ضیا نے احتساب عدالت میں اپنے بیان میں کہا ایم ایل اے کے جواب میں لیٹر آف کریڈٹ ہونے کا بھی درج نہیں۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کوئی ایسی دستاویز دکھا دیں جس میں لکھا ہو کہ لیٹر آف کریڈٹ جعلی ہے جس پر واجد ضیا نے کہا وہ ایم ایل اے کا جواب ہے، لیٹر آف کریڈٹ کی کاپی متفرق درخواست سے لی۔

ے آئی ٹی نے طارق شفیع سے محمد حسین کے بیٹے شہزاد حسین کا ایڈریس پوچھا لیکن طارق شفیع نے محمد شہزاد کا پتہ و رابطہ نمبر نہیں دیا۔ جے آئی ٹی نے شہزاد حسین کے ایڈریس کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن نہیں ملا۔ 1980 کا معاہدہ جعلی تھا اور معاہدے کے دوسرے گواہ لاہور سے محمد اکرم تھے۔ محمد اکرم کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ یہ کاپی حسین نواز نے جے آئی ٹی کو بھی دی ، جس پر واجد ضیا نے جواب دیا کہ حسین نواز نے لیٹر آف کریڈٹ کی کاپی جے آئی ٹی کو فراہم نہیں کی، ٹرانسپورٹیشن آف گڈز سے متعلق حسین نواز سے سوال کئے تھے، حسین نواز سے لیٹر آف کریڈٹ سے متعلق مخصوص سوال نہیں کیا، مشینری کی جدہ منتقلی سے متعلق ضرور پوچھا، جے آئی ٹی نے حسن نواز کو لیٹر آف کریڈٹ کی کوئی کاپی پیش کرنے کا نہیں کہا۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ گلف اسٹیل ملز 1980 میں 90 لاکھ ڈالر میں فروخت کی گئی تھی۔ اس کے بعد حسین نواز نے جے آئی ٹی کو بیان میں کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں قائم گلف اسٹیل مل کی مشینری 50 سے 60 ٹرکوں میں جدہ منتقل کی گئی اس مشینری سے العزیزیہ اسٹیل قائم کی گئی۔

متعلقہ خبریں