ذولفقار علی بھٹو کا کیس جب آ رہا تھا تو تب ہر آدمی یہ کہہ رہا تھا کہ ان کو سزا ہونے والی ہے اور اب 99 فیصد لوگ نواز شریف کو سزا سُنا چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔لیگی رہنما کا انکشاف

ذولفقار علی بھٹو کا کیس جب آ رہا تھا تو تب ہر آدمی یہ کہہ رہا تھا کہ ان کو سزا ہونے والی ہے اور اب 99 فیصد لوگ نواز شریف کو سزا سُنا چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔لیگی رہنما کا انکشاف

ذولفقار علی بھٹو کا کیس جب آ رہا تھا تو تب ہر آدمی یہ کہہ رہا تھا کہ ان کو سزا ... 04 جولائی 2018 (22:45) 10:45 PM, July 04, 2018

آف دا ریکارڈ کاشف عباسی کے پروگرام میں لیگ کی رہنما عُظمیٰ بُخاری نے گُفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذولفقار علی بھٹو کا کیس جب آ رہا تھا تو تب ہر آدمی یہ کہہ رہا تھا کہ ان کو سزا ہونے والی ہے اور اب 99 فیصد لوگ نواز شریف کو سزا سُنا چکے ہیں یہ عوام کہ خواہش بھی ہے . اس بات کے بُہت سارے قانونی پہلو ہیں . اگر دیکھا جائے تو بھٹو صاحب کا کیس بھی سمپل نہیں تھا اُن کو پھنسایا گیا تھا اُس وقت لوگوں نے کہا کہ تھا کہ بھٹو کے خلاف قانون اور آئین کے مُطابق فیصلہ سُنایا گیا ہے اب آپ خُود ہی دیکھ لیں کہ تاریخ کیا کہہ رہی ہے . میری گُزارش ہے کہ کاش یہ بات اتنی سمپل ہوتی جتنی عوام اور میڈیا نے بنائی ہوئی ہے . کیا پانامہ کے اندر نواز شریف صاحب کا نام تھا .

ضرور پڑھیں:کالا باغ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت ترین ردعمل

ضرور پڑھیں:پاکستان بدترین پلاننگ کے دور سے گُزر رہا ہے . انگریزوں کے دور سے بھی پہلے کی بات ہے کہ اکبر بادشاہ نےایک وارڈ فیڈ بنایا تھا وارڈ فیڈ کے اُوپر ایک تالاب بنایا گیا تھا جہاں سے پانی نیچے سپلائی ہوتا تھا .۔۔۔۔۔۔۔۔پڑھئے اہم حقائق

ضرور پڑھیں:اگر فیصلہ نواز شریف کی بریت کا ہوا تو وہ حیران کُن فیصلہ ہو گا مگر گرفتاری کا فیصلہ۔۔۔۔۔۔۔سنئیر تجزیہ کار کے اہم انکشاف نے ن لیگی سپورٹرز کو بری خبر سنا دی

کیا پانامہ کے اس سارے کیس میں , جب آپ نے پے ہی سزا سُنا دی ہے .آپ نے نواز شریف صاحب کو نااہل بھی قرار دے دیا ,وزیر اعظم ہاؤس سے بھی اُن کو نکال دیا ,ا سں کے بعد اُنھیں پارٹی صدارت سے بھی فارغ کر دیا گیا . اب نئی پلاننگ یہ تھی کہ جولائی کے مہینے میں جب الیکشن ہونے جا رہے ہیں اس فیصلے کو آنا ہے تو اس فیصلے کو لا کر الیکشن کمپلین کو مُتاثر کیا جانا تھا . یہ باتیں اگر اتنی سمپل ہوتی نا تو واجد ریاض صاحب نے گواہی دی تھی تو اُن سے پوچھا گیا کہ آپ نے قطری خط کا جواب آیا تھا اُس کے تو 4 صفحے تھے باقی کہاں ہیں تو اُنھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ غلطی سے کاغذات ادھر اُدھر ہو گے تھے . بہت سارے کاغذات اھر ادھر ادھر غلطی سے ہو گے تھے تو وہ 40 لوگوں کی ایک ٹیم تھی جنھوں پانامہ لیکس کی جانچ پڑتال کی آج تک اُن میں سے 4 لوگوں کے نام بھی سامنے نہیں آئے ہیں . ہم تو غلط تھے مگر اس مُلک کے 17 وزیر اعظم جو فارغ ہوئے ہیں وہ سب ہی غلط تھے .

متعلقہ خبریں