بھارت میں سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی مسلسل افواہیں سینکڑوں افراد کی قاتل بن گئیں

بھارت میں سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی مسلسل افواہیں سینکڑوں افراد کی قاتل بن گئیں

بھارت میں سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی مسلسل افواہیں سینکڑوں افراد کی قاتل ... 04 جولائی 2018 (20:35) 8:35 PM, July 04, 2018

بھارت کے نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت کی مختلف ریاستوں کے اضلاع دیہات میں سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی مسلسل افواہوں کے نتیجہ میں اب تک 29 افراد مارے جا چکے ہیں جس کے بعد بھارتی وزیر داخلہ نے تمام ریاستوں کے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس ( ڈی جی پی)کو ہدایت جاری کی کہ وہ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ کو بتا یا کہ ملک میں گذشتہ دنوں گائو رکشک اور اب بچوں کے اغوا کی افواہ پر لوگ مشتعل ہوجاتے ہیں اور اس شبہ میں مختلف ریاستوں میں مسلسل قتل کی وارداتیں سامنے آرہی ہیں۔

ضرور پڑھیں:ایک ڈرائیور ڈرائیونگ کے دوران ویڈیو بنا رہا تھا کہ اچانک شدید حادثہ ہو گیا،لیکن اسکے بعد جو کچھ ہوا دنیا اس پر حیران ہو گئی۔

ضرور پڑھیں:امریکہ میں بچے کی سالگرہ اس وقت خراب ہوگئی جب ایک شخص ہاتھ میں چاقو لئیے کیک کی بجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی بیانک سالگرہ کہ پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔

یاد رہیکہ واٹس ایپ پر بچوں کے اغوا سے متعلق جھوٹے پیغامات پھیلنے کے نتیجے میں پچھلے سال کے دوران 10 مختلف بھارتی ریاستوں میں کم ازکم 31 افراد کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان ہلاکتوں میں 5 وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں مغربی بھارتی ریاست مہاراشٹر میں اتوار کے روز ایک ہجوم نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔منگل کے روز الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے اپنے ایک سخت پیغام میں کہا ہے کہ جب پیغام رسانی کے پلیٹ فارم جھوٹی اور غلط اطلاعات پھیلانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے تو وہ ذمہ داری اور جوابدہی سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔وزارت کا کہنا ہے کہ اس نے واٹس ایپ کو واضح طور پر یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ اس صورت حال کے تدارک کے لیے وہ فوری اقدامات کرے اور یہ یقینی بنائے کہ اس کا پلیٹ فارم بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔فیس بک اور واٹس ایپ نے فوری طور پر حکومتی بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن واٹس ایپ نے اس سے قبل روئیٹرز نیوز ایجنسی سے کہا تھا کہ وہ اپنے صارفین کو جھوٹی خبروں کی شناخت کے متعلق تربیت دے رہا ہے اور اپنی پیغام رسانی کی سروس میں تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں