خواتین کے لیے الگ جیلیں ہونی چاہئیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو کم ازکم ان کے لیے الگ۔۔۔۔۔۔ سینیٹ کمیٹی کا مطالبہ

خواتین کے لیے الگ جیلیں ہونی چاہئیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو کم ازکم ان کے لیے الگ۔۔۔۔۔۔ سینیٹ کمیٹی کا مطالبہ

خواتین کے لیے الگ جیلیں ہونی چاہئیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو کم ازکم ان کے لیے ... 04 جولائی 2018 (13:19) 1:19 PM, July 04, 2018

پاکستان کی ایک سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور ایوان بالا کے رکن سینیڑ شاہی سید نے کہا ہے کہ ملک میں خواتین کے لیے الگ جیلیں ہونی چاہئیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو کم ازکم ان کے لیے الگ بیرکس ہونی چاہیئں جو مرد قیدیوں کی بیروکوں سے فاصلے پر بنائی جائیں۔

ضرور پڑھیں:کرپشن کی کمر توڑنے کا وقت قریب ہے، منی ٹریل کے بارے میں نواز شریف جانتے تک نہیں۔قطری خط کے علاوہ شریف فیملی کچھ پیش نہیں کرسکی۔شیخ رشید

ضرور پڑھیں:اہم خبر آ گئی،پی ٹی آئی کے دفتر پر بم حملہ

ان کی طرف سے یہ تجویز پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی کمیٹی برائے امور داخلہ کے ایک اجلاس کے دوران آئی جس میں بتایا گیا کہ ملک کی مختلف جیلوں میں قید خواتین سے رات کو مبینہ طور پر بدسلوکی کی جاتی ہے یا اُنھیں غیر اخلاقی کاموں میں ملوث ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

خواتین سے ایسے سلوک پر کمیٹی کے اراکین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کے سربراہ سینیٹر رحمان ملک کی سربراہی میں پیر کو ہونے والے اجلاس میں اس معاملے پر سامنے آنے والی اطلاعات پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ اس کام میں مبینہ طور پر متعلقہ جیلوں کا عملہ بھی ملوث ہے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خواتین سے ایسی مبینہ بدسلوکی کن جیلوں میں کی گئی اور وہ کن صوبوں میں واقع ہیں۔ کمیٹی نے چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرلز جیل خانہ جات کو بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں پیش ہو کر اس معاملے کے بارے میں صورت حال سے آگاہ کریں۔

ضرور پڑھیں:نواب اکبر بگٹی کے پوتے نواب میر عالی بگٹی کو رواں ماہ 25 جو لائی کو ہونے والے عام انتخابات کےلئے اہل قرار

ضرور پڑھیں:پاکستان کی جیلوں میں کتنی خواتین قید ہیں؟ خواتین کی جیلوں کی ابتر صورتِ حال سے متعلق مقدمے کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار برھم

متعلقہ خبریں