بھارت میں واٹس ایپ کے ذریعے خطرناک جرم اس قدر بڑھ گیا کہ سخت اقدامات اٹھانا حکومت کی مجبوری بن گیا۔

بھارت میں واٹس ایپ کے ذریعے خطرناک جرم اس قدر بڑھ گیا کہ سخت اقدامات اٹھانا حکومت کی مجبوری بن گیا۔

بھارت میں واٹس ایپ کے ذریعے خطرناک جرم اس قدر بڑھ گیا کہ سخت اقدامات اٹھانا ... 04 جولائی 2018 (12:17) 12:17 PM, July 04, 2018

واٹس ایپ پر بچوں کے اغوا سے متعلق جھوٹے پیغامات پھیلنے کے نتیجے میں پچھلے سال کے دوران 10 مختلف بھارتی ریاستوں میں کم ازکم 31 افراد کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان ہلاکتوں میں 5 وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں مغربی بھارتی ریاست مہاراشٹر میں اتوار کے روز ایک ہجوم نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ضرور پڑھیں:ایک ڈرائیور ڈرائیونگ کے دوران ویڈیو بنا رہا تھا کہ اچانک شدید حادثہ ہو گیا،لیکن اسکے بعد جو کچھ ہوا دنیا اس پر حیران ہو گئی۔

ضرور پڑھیں:امریکہ میں بچے کی سالگرہ اس وقت خراب ہوگئی جب ایک شخص ہاتھ میں چاقو لئیے کیک کی بجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی بیانک سالگرہ کہ پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔

منگل کے روز الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے اپنے ایک سخت پیغام میں کہا ہے کہ جب پیغام رسانی کے پلیٹ فارم جھوٹی اور غلط اطلاعات پھیلانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے تو وہ ذمہ داری اور جوابدہی سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔وزارت کا کہنا ہے کہ اس نے واٹس ایپ کو واضح طور پر یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ اس صورت حال کے تدارک کے لیے وہ فوری اقدامات کرے اور یہ یقینی بنائے کہ اس کا پلیٹ فارم بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔فیس بک اور واٹس ایپ نے فوری طور پر حکومتی بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن واٹس ایپ نے اس سے قبل روئیٹرز نیوز ایجنسی سے کہا تھا کہ وہ اپنے صارفین کو جھوٹی خبروں کی شناخت کے متعلق تربیت دے رہا ہے اور اپنی پیغام رسانی کی سروس میں تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے۔

ضرور پڑھیں:فٹ بال عالمی کپ کے دورا ن ایک اور خاتون اینکر ہراسگی کا شکار

ضرور پڑھیں:اسے کہتے ہیں انصاف ایسے ہوتی ہے ترقی،متحدہ عرب امارات میں منی لانڈرنگ کیخلاف بڑا اقدام اٹھا لیا گیا

متعلقہ خبریں