پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ایک بڑی سپورٹ ہے لیکن یہ ایک ناپختہ لوگوں کا ایک گروہ ہے جن میں کمیونیکیشن گیپ چل رہا ہے۔۔۔۔اہم حقائق پڑھئے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ایک بڑی سپورٹ ہے لیکن یہ ایک ناپختہ لوگوں کا ایک گروہ ہے جن میں کمیونیکیشن گیپ چل رہا ہے۔۔۔۔اہم حقائق پڑھئے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ایک بڑی سپورٹ ہے لیکن یہ ایک ناپختہ لوگوں کا ایک ... 03 جون 2018 (20:07) 8:07 PM, June 03, 2018

حامد میر نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ :"جہاں جہاں پی ٹی نگران وزیر اعلیٰ کو منتخب کرنے میں ملوث ہے وہاں ہی مسئلہ ہے -پنجاب میں بھی خیبر پختونخواہ میں بھی -خیبر پختونخواہ میں بھی یہ ہوا ہے کہ پہلے انہوں نے ایک نام خود دیا اور پھر اس سے دستبردار ہو گئے -اور پھر پنجاب میں بھی انہوں نے ناصر کھوسہ کا نام خود دیا اور اس سے دستبردار ہو گئے - انہوں نے ایک افراتفری مچائی ہوئی ہے -لیکن اس افراتفری میں ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ایک بڑی سپورٹ ہے لیکن یہ ایک ناپختہ لوگوں کا ایک گروہ ہے جن میں کمیونیکیشن گیپ چل رہا ہے -محمود الرشید کو میں کسی گروپ کا آدمی نہیں سمجھتا وہ عمران خان کے پرانے ساتھی ہیں جب پرویز مشرف کے دور میں جب عمران خان کی گرفتاری کے لیے چھاپے پڑ رہے تھے تو محمود الرشید صاحب ان کو چھپا کے کبھی ادھر لے جا رہے تھے کبھی ادھر لے جا رہے تھے تو یہ کسی گروہ کے ساتھی نہیں ہیں نہ جہانگیر ترین کے نہ محمود قریشی کے یہ لوگ تو بہت بعد میں آئے ہیں جہانگیر ترین 2011 کے بعد آئے ہیں - یہ نام عمران خان نے محمود الرشید صاحب کو دیے اور انہوں نے شہباز شریف صاحب کو دے دیے -فواد چودھری صاحب سمجھتے ہیں کہ اوریا مقبول جان کا نام نہیں دینا چاہیے تھا شاید ان کے اوریا صاحب کے ساتھ سیاسی اختلاف ہوں -محمود الرشید صاحب کہتے ہیں کہ مجھے یہ نام پارٹی کی قیادت نے دیا ہے اور میں نے یہ نام شہباز شریف کو دے دیا فواد چودھری صاحب بھی پارٹی کے ترجمان ہیں اور سیکرٹری انفارمیشن ہیں -انہوں نے بھی پارٹی کو ڈیفینڈ کرنا ہے اب یہاں پہ آپ کو لگ رہا ہے کہ فواد چودھری اور محمود الرشید صاحب میں کمیونیکیشن گیپ ہے - آئین کےآرٹیکل 124 اور 124A کے مطابق یہ ضروری نہیں ہے کہ عمران خان کی جو خواہش محمود الرشید نے بیان کی ہے اس پ عمل درآمد کیا جائے اس کے لیے چیف منسٹر اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے ضروری ہے اب اوریا صاحب کے نام پر ایک تنازعہ بن گیا ہے ایاز میر صاحب کے نام پر شاید ن لیگ کبھی نہ مانے اور جو اظہار یعقوب صاحب ہیں وہ ایک بزنس مین ہیں ان کے نام پہ شاید اتفاق ہو جائے حسن عسکری رضوی صاحب انہوں نے ایک کالم لکھ دیا تھا کہ الیکشن اگر ڈیلے ہو جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا تو اس پہ بھی ن لیگ اتفاق نہیں کرے گی -لیکن اگر دیکھا ائے تو حسن عسکری سب سے اچھا انتخاب ہیں "

متعلقہ خبریں