اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری جاری

اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری جاری

اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری جاری 03 جون 2018 (13:19) 1:19 PM, June 03, 2018

غزہ : اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں دو مقامات پر میزائل حملے تاہم ان حملوں میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری جانب جنوبی اسرائیل میں فلسطینیوں کے ممکنہ راکٹ حملوں کے خطرے کے پیش نظر خطرے کے سائرن بجائے گئے جس کے بعد یہودی زیرزمین بنکروں میں چلے گئے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی علاقوں میں دو راکٹ داغے ان میں سے ایک اپنے ہدف کو جا لگا جب کہ دوسرے کو فضاء ہی میں مار گرایا گیا تھا۔ اس واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل 10 کے مطابق جنوبی اسرائیل میں غزہ کی پٹی سے متصل علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے جس کے بعد یہودی آباد کاروں کی محفوظ پناہ گاہوں کی طرف دوڑیں لگ گئیں۔

ا س سے قبل جمعہ کے روز اسرائیلی نشانہ بازوں نے خان یونس کے مقام پر زخمیوں کو مرہم پٹی کرنے والی ایک نوجوان دوشیزہ کو بے دردی سے گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ اس واقعے نے فلسطین بھرمیں صہیونی ریاست کے خلاف غم وغصے کہ لہر دوڑا دی تھی۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق رزان النجار نامی نرس کی شہادت کے بعد غزہ میں 30 مارچ کے بعد سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 125 ہوگئی ہے جب کہ تیرہ ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز مشرقی غزہ میں احتجاج کرنے والے 100 سے زاید فلسطینیوں کو گولیاں مار کر زخمی کردیا گیا تھا۔

ا س سے قبل بھی غزہ پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب 100 کے قریب راکٹ داغے گئے ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ مذکورہ حملوں کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج سے لڑنے والے گروہوں حماس اور اسلامی جہاد کے اہداف پر فضائی حملے کیے گئے، حملوں میں سرحدی سرنگ کو بھی نشانہ بنایا گیا جو مجاہدین کے زیر استعمال تھی۔

اسرائیل کی دفاعی افواج نے کہا کہ ان کے آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم نے آنے والے 25 میزائلوں کو روکا، یہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی پر سب سے بڑا حملہ تھا۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ فائر بندی ہو گئی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ فلسطینی گروپس 2014ء کے معاہدے کے مطابق غزہ میں پرسکون رہیں گے بشرط یہ کہ اسرائیل بھی ایسا ہی کرے۔ اسلامی جہاد کے ترجمان داؤد شہاب نے بتایا کہ ان کی تنظیم اور حماس کے ساتھ مصری رابطوں کی روشنی میں سال 2014 کی فائر بندی کی مفاہمت کو مضبوط بنانے پر موافقت طے پا گئی ہے۔یاد رہے کہ 2014ء میں بھی مصر نے فائر بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا جس نے اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان سات ہفتوں سے جاری جنگ کو اختتام تک پہنچا دیا۔

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن خلیل الحیا نے ایک بیان میں کہا کہ منگل کے روز زبردست مقابلے کے بعد آخر کار مصالحتی کوششیں نظر آنے لگی ہیں، امید ہے کہ جلد ہم غزہ کی پٹی پر سیز فائر کی مفاہمت کی طرف لوٹ سکیں گے۔

حماس کے نمائندے کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے آگے مزاحمت کرنے والے دونوں گروہ یعنی حماس اور اسلامی جہاد سیز فائر کے لیے مخلص ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ قابض اسرائیل بھی سیز فائر کرے تاہم اسرائیل کی طرف سے اس پر کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اگر جارحیت کا سلسلہ جاری رکھاگیا تو وہ اسرائیل کو نشانہ بنانے کی قدرت رکھتی ہے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی نے ایک اسرائیلی ذمّے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں فائر بندی سے متعلق خبر درست نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں