قتیل شفا ئی : اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایہ......جو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر نہیں گرتا

قتیل شفا ئی : اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایہ......جو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر نہیں گرتا

قتیل شفا ئی : اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایہ......جو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر ... 03 جون 2018 (11:45) 11:45 AM, June 03, 2018

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا

ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا

لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

سمجھو وہاں پھل دار شجر کوئی نہیں ہے

وہ صحن کہ جس میں کوئی پتھر نہیں گرتا

اتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی کا

اس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا

انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی

اتنا تو کبھی کوئی سخن ور نہیں گرتا

حیراں ہے کئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی

تالاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا

اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایہ

جو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر نہیں گرتا

کرنا ہے جو سر معرکۂ زیست تو سن لے

بے بازوئے حیدر در خیبر نہیں گرتا

قائم ہے قتیلؔ اب یہ مرے سر کے ستوں پر

بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا