بھارت چاہے تو سندھ طاس معاہدے کو توڑے بنا بھی پاکستان کو پانی کیلئے ترسا سکتا ہے - بھارت کا پاکستان کے خلاف ایک بڑا منصوبہ

بھارت چاہے تو سندھ طاس معاہدے کو توڑے بنا بھی پاکستان کو پانی کیلئے ترسا سکتا ہے - بھارت کا پاکستان کے خلاف ایک بڑا منصوبہ

بھارت چاہے تو سندھ طاس معاہدے کو توڑے بنا بھی پاکستان کو پانی کیلئے ترسا سکتا ... 03 جون 2018 (10:42) 10:42 AM, June 03, 2018

بھارتی میڈیا کی ایک رپرٹ کیمطابق کے مطابق انڈیا سے پاکستان میں جو پانی جاتا ہے پاکستان اس پر انحصار کرتا ہے نریندر مودی کا کہنا ہے کہ :"خون اور پانی ایک ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے - بھارت چاہے تو سندھ طاس معاہدے کو توڑے بنا بھی پاکستان کو ترسا سکتا ہے "- سندھ جہلم چناب بھارت سے ہو کر پاکستان جانے والی تین ندیوں کی وجہ سے پاکستان گھبرا گیا ہے -سندھو ندی جو بھارت سے بہتی ہوئی پاکستان جاتی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی ندیوں سے ایک ہے -اور پاکستان کی بڑی آبادی اس کے کنارے آباد ہے - اور ان کی پانی ضروریات اور کھیتی اس پر منحصر ہے -1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اس معاہدے کے مطابق ستلج بیاس اور راوی بھارت کے تحت ہیں اور بھارت ان کا استعمال بھی بھارت جس طرح چاہے کر سکتا ہے -اور سندھ ,چناب اور جہلم پاکستان کے حصے میں تھے -لیکن اس کے بیس فیصد کا استعمال بھارت اپنے بجلی بنانے اور کھیتی کے لیے استعمال کر سکتا ہے - بھارت اپنے بیس فیصد میں سے صرف آٹھ فیصد استعمال کر تا رہا ہے لیکن اب بھارت ایسا نہیں کرے گا اور بھارت پاکستان کا پانی روکنے کی بات کر رہا ہے -ایسا کرنے کے لیے بھارت کو اپنے کئی پراجیکٹس میں تیزی لانی پڑے گی اس میں سب سے اہم چناب پر چلنے والے ڈیم اور بندوں کا منصوبہ ہے جس میں اب تیزی لائی جا رہی ہے -ان بندوں کے اب تک نہ بننے کی وجہ وہاں موسم ہے اور اب جب یہ چھ بند بن جائیں گے تو اس سے نہ جموں کشمیر کی بجلی کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک بڑی مشکل کھڑی ہو جائے گی اس کے علاوہ ایک پراجیکٹ جہلم پر بھی شروع ہے -جس کے بن جانے کی وجہ سے پاکستان کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا -"

متعلقہ خبریں