جو ن ایلیا: بات تو دل شکن ہے پر یارو .......عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا

جو ن ایلیا: بات تو دل شکن ہے پر یارو .......عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا

جو ن ایلیا: بات تو دل شکن ہے پر یارو .......عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا 02 جون 2018 (14:12) 2:12 PM, June 02, 2018

ایک سایہ مرا مسیحا تھا

کون جانے وہ کون تھا کیا تھا

وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی

میں بھی حجرے سے کم نکلتا تھا

تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو

تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ

وصل سے انتظار اچھا تھا

بات تو دل شکن ہے پر یارو

عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا

اپنے معیار تک نہ پہنچا میں

مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا

جسم کی صاف گوئی کے با وصف

روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا