کس طرح کراچی کی تمام آبادی کے پانی کو صرف بحریہ ٹاؤن کے لیے استعمال کیا جارہا ہے - پڑھئے اصل کہانی

کس طرح کراچی کی تمام آبادی کے پانی کو صرف بحریہ ٹاؤن کے لیے استعمال کیا جارہا ہے - پڑھئے اصل کہانی

کس طرح کراچی کی تمام آبادی کے پانی کو صرف بحریہ ٹاؤن کے لیے استعمال کیا ... 02 جون 2018 (11:00) 11:00 AM, June 02, 2018

کسطرح کراچی کے پانی کو بحریہ ٹاؤن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس بارے میں معروف تجزیہ نگار محمد مالک کا کہنا ہے کہ :"ایک پراجیکٹ کا نام آپ سب لوگوں نے بہت سنا ہو گا " کے فار واٹر پراجیکٹ " - کے فار واٹر پراجیکٹ کیا ہے یہ پچیس ارب کے قریب سے شروع ہوا تھا جو مچھر لیک سے پانی لیکر جانا تھا کراچی کے لیے -اس کا روٹ تبدیل ہوتا ہے اور اسے گزارا جاتا ہے بحریہ ٹاؤن سے ابھی بحریہ ٹاؤن بنا ببھی نہیں تھا اس کے ساتھ 374 ایکڑ زمیں اور اس کے فیز ٹو میں باون بلین منظور ہوا ہے -پہلے پچیس ارب تھا -اب جو پراجیکٹ جن کے لیے بنا ہے ان کو لمے سے پہلے ہی بحریہ ٹاؤن کےبننے سے بھی پہلے اس کے لیے استعمال ہو رہا ہے سو جتنے بھی ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ,سندھ ریونیو ڈیپارٹمنٹ اس زمانے کے چیف سیکرٹری سندھ اس زمانے کے سیکرٹریز یہ سارے کروڑ پتی ارب پتی ایسے ہی نہیں بن گئے جب آپ ٹی وی پہ دیکھتے ہیں چھاپے پڑ رہے ہیں یہ ایسے ہی نہیں پڑ رہے اور یہ سارا کام جو سکھاتے ہیں یہ بیوروکریٹس ہی سکھاتے ہیں -لوگ کہتے ہیں اس کے پیچھے وزیر تھے تھے-ان ساری چیزوں کو گریس جو لوگ لگا رہے ہیں وہ بیوروکریسی لگا رہی ہے -ان میں جو لوگ ہیں وہ 2013 اپریل سے میں منسٹر فار لوکل گورنمنٹ تھے آغا سراج درانی جون 2013 جولائی 2015 تک اویس مظفر تھے منسٹر فار لوکل گورنمنٹ -جو منہ بولے بھائی ہیں آصف زرداری صاحب کے -ان کو ہٹا دیا جاتا ہے 2015 میں اور پھر چارج دے دیا جاتا ہے شرجیل میمن کو -آج آپ فائل پڑھتے ہیں تو یقین مانیے ہر قدم پہ الیگل کام ہے پہلے اشتہار سے لیکر ملیر ڈویلپمنٹ کی زمین نہیں تھی جو ان کو دے دی ان کے پاس رائٹ نہیں تھا ڈیویلپمنٹ کا جو انہوں نے ڈویلپ کر دیا کورٹ کے آرڈرز تھے جس کے باوجود انہوں نے زمینیں بیچ دی چار کورٹ آرڈرز تھے جو میں آپ کو بتا دیتا ہوں ایک آرڈر تھا 28نومبر 2012 کا اس میں کہا گیا تھا کوئی لینڈ الاٹ اتھارٹی کسی کے پاس نہیں ہے پھر جولائی 2015 کا آرڈر ہے پھر مارچ 2016 کا آرڈر ہے اور پھر 2016 اگست میں ہے -اس میں کہا گیا تھا کہ زمین کی ڈیلنگ کا کسی کے پاس کوئی حق نہیں ہے اس کے باوجود زمین بکی اور سب کچھ ہوا -"

متعلقہ خبریں