خود کش بمبار نے سکھوں اور ہندوؤں کے قافلے میں تباہی مچادی،لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔

خود کش بمبار نے سکھوں اور ہندوؤں کے قافلے میں تباہی مچادی،لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔

خود کش بمبار نے سکھوں اور ہندوؤں کے قافلے میں تباہی مچادی،لاشوں کے ڈھیر لگ ... 02 جولائی 2018 (09:34) 9:34 AM, July 02, 2018

افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں ایک خود کش بمبار نے سکھوں اور ہندوؤں کے ایک گروپ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں انیس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ہندواورسکھ وفد کی صورت میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے صوبہ ننگرہار کے گورنر کے کمپاؤنڈ کی جانب جارہے تھے۔جلال آباد کے مرکزی اسپتال کے ترجمان انعام اللہ میاں خیل نے بتایا ہے کہ مرنے والے انیس افراد میں سترہ ہندو اور سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اور دس زخمی افراد بھی اسی اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک زخمی سکھ نریندر سنگھ نے جلال آباد کے اسپتال سے ایسوسی ایٹڈ پریس کے نمائندے کو بتایا ہے کہ ان کے قافلے کو خودکش بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔صوبائی گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے بتایا ہے کہ خودکش بم دھماکے کے بعد متعدد دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگ گئی تھی۔

ضرور پڑھیں:ایک نو مسلم خاتون داعش سے جان چھڑا کر اپنے ملک پہنچی تو وہاں ایک نئی مصیبت میں پھنس گئی۔بیچاری کیساتھ وہ ھو گیا جو اس نے سوچا بھی نہ ہو گا۔

ضرور پڑھیں:اہم مغربی ملک میں ڈاکٹر جنسی درندہ نکلا،ایک نہیں دو نہیں بلکہ درجنوں خواتین کرتا رہا،طریقہ وہ اختیار کیا کہ ھر کوئی چکرا گیا۔

ضرور پڑھیں:اسرائیلی فوج کے ٹینک اور توپ خانے شام کی سرحد کے قریب نصب

ضرور پڑھیں:اکتالیس سالہ شخص کی گیارہ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ شادی کی خبر نے عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔

ننگر ہار کے پولیس سربراہ جنرل غلام سنائی ستنکزئی نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ خودکش بمبار نے گورنر کے کمپاؤنڈ کی طرف جانے والے وفد کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔وہ شہر کے دورے پر آئے ہوئے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جانا چاہتے تھے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔اس صوبے میں طالبان کے علاوہ داعش کے جنگجو بھی متحرک ہیں اور انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران میں افغان سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر متعدد خودکش بم حملے کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں