امریکی سینیٹ نے 716 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی پالیسی بجٹ کی منظوری دے دی

امریکی سینیٹ نے 716 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی پالیسی بجٹ کی منظوری دے دی

امریکی سینیٹ نے 716 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی پالیسی بجٹ کی منظوری دے دی 02 اگست 2018 (15:07) 3:07 PM, August 02, 2018

امریکی سینیٹ نے 716 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی پالیسی بجٹ کی منظوری دے دی ہے جس میں پاکستان کے لیے بھی امداد کی مد میں 15 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔

سینیٹ نے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں 'نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ' نامی یہ بِل 10 کے مقابلے میں 87 ووٹوں سے منظور کیا۔ہر سال منظور کیے جانے والے اس بِل کے ذریعے کانگریس امریکی حکومت کے دفاعی اخراجات کے ساتھ ساتھ دفاع سے متعلق کئی اہم پالیسی امور کی بھی منظوری دیتی ہے۔ایوانِ نمائندگان نے پہلے ہی یہ بِل گزشتہ ہفتے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا تھا جسے اب وائٹ ہاؤس بھیجا جائے گا جہاں وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے بعد قانون بن جائے گا۔بِل میں امریکی فوج کے لیے 77 نئے 'ایف-35' لڑاکا طیارے خریدنے کے لیے ساڑھے سات ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ طیارے امریکی کمپنی 'لاک ہیڈ مارٹن' تیار کرے گی۔بِل میں پاکستان کے لیے فوجی امداد کی مد میں 15 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں جو اطلاعات کے مطابق پاکستان کو اپنی سرحدوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کی مد میں دیے جائیں گے۔یہ رقم ماضی میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو سکیورٹی اور 'کولیشن سپورٹ فنڈ' کی مد میں دی جانے والی امداد سے کہیں کم ہے جو 75 کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک ہوا کرتی تھی۔گزشتہ سال امریکہ نے اپنے دفاعی بجٹ میں پاکستان کے لیے 'کولیشن سپورٹ فنڈ' کی مد میں 70 کروڑ ڈالر مختص کیے تھے۔لیکن حالیہ بِل میں امریکی امداد کو پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک اور لشکرِ طیبہ کے خلاف کارروائی سے مشروط کرنے کی شق ختم کردی گئی ہے جو چند سال قبل متعارف کرائی گئی تھی۔بدھ کو منظور کیے جانے والے بِل میں کوئی ایسی شق بھی شامل نہیں کہ امریکہ پاکستان کو یہ امداد انسدادِ دہشت گردی کے لیے کی جانے والی اس کی کارروائیوں کے معاوضے کے طور پر ادا کرے گا۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امداد کی فراہمی کے لیے ماضی میں عائد کی جانے والی ان شرائط کے خاتمے سے امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) اپنی اس صلاحیت سے محروم ہوگیا ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک اور اپنی سرزمین میں سرگرم دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیےدباؤ ڈال سکتا تھا۔

متعلقہ خبریں