بیٹے کا جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے اور مقرر شدہ مناظرہ کرنا میرے لیے فرض عین ہے،ایک عالم کا ایمان افروز واقعہ

بیٹے کا جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے اور مقرر شدہ مناظرہ کرنا میرے لیے فرض عین ہے،ایک عالم کا ایمان افروز واقعہ

بیٹے کا جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے اور مقرر شدہ مناظرہ کرنا میرے لیے فرض عین ... 02 اگست 2018 (11:42) 11:42 AM, August 02, 2018

ایک دفعہ مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا اکلوتا بیٹا زین العابدین بیمار ہوا۔ مولانا گھر پر تھے، اس کی بیماری شدت اختیار کرتی گئی۔ حتیٰ کہ اس کی زندگی سے مایوسی کے آثار ظاہر ہو گئے۔ اس دن مولانا نے مشہور قادیانی مبلغ اللہ دتہ جالندھری سے ہزارہ کے علاقہ میں مناظرہ کے لیے جانا تھا۔ مولانا اپنے اکلوتے جواں سال صاحبزادے کو اس حالت میں چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔ ابھی اڈہ پر ہی پہنچے تھے کہ پیچھے سے آدمی دوڑتا ہوا آیا اور پیغام دیا کہ بچے کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے ٹھنڈا سانس لیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور اس آدمی سے کہا کہ گھرجا کر غسل دیں، کفن پہنائیں، جنازہ پڑھیں اور دفن کر دیں، میرا اس مناظرہ کے لیے جانا ضروری ہے۔ جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے اور مقرر شدہ مناظرہ کرنا میرے لیے فرض عین ہے، ورنہ کئی آدمیوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے، میں جا رہا ہوں۔ یہ کہہ کر استقامت و ایثار کے بے تاج بادشاہ غلام غوث ہزاروی بس پر سوار ہو کر مناظرہ کے لیے مقررہ مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔

متعلقہ خبریں