براعظم افریقا میں جاری مسلح لڑائیوں کے نتیجے میں 1995ء سے2015ء تک 50 لاکھ سے زاید بچوں کی ہلاکتوں کے اعدادو شمار جاری کیے گئے ہیں۔

براعظم افریقا میں جاری مسلح لڑائیوں کے نتیجے میں 1995ء سے2015ء تک 50 لاکھ سے زاید بچوں کی ہلاکتوں کے اعدادو شمار جاری کیے گئے ہیں۔

براعظم افریقا میں جاری مسلح لڑائیوں کے نتیجے میں 1995ء سے2015ء تک 50 لاکھ سے زاید ... 01 ستمبر 2018 (11:52) 11:52 AM, September 01, 2018

براعظم افریقا میں جاری مسلح لڑائیوں کے نتیجے میں 1995ء سے2015ء تک 50 لاکھ سے زاید بچوں کی ہلاکتوں کے اعدادو شمار جاری کیے گئے ہیں۔

جمعہ کے روز جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 سال کے دوران افریقی ملکوں میں جاری رہنے والی مسلح لڑائیوں کے نتیجے میں بھوک اور امراض کے باعث کم سے کم پچاس لاکھ سے زاید بچے لقمہ اجل بنے۔ مرنےوالے بچوں کی عمریں پانچ سال کے درمیان تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونےوالے بچوں میں 3ملین شیر خوار جن کی عمریں 12 ماہ یا اس سے بھی کم تھیں ہلاک ہوئے۔ افریقی ملکوں میں مسلح لڑائیوں میں ہلاک ہونے والے کل افراد اس سے تین گنا کم ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں شیرخوار بچوں کی ہوئیں۔

’دی لانسٹ‘ میڈیکل جریدے میں شائع ہونےوالی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ بیس سال کے دوران فریقی ملکوں میں 15 ہزار 441 مسلح لڑائیاں ہوئیں جن میں ایک ملین سے زاید افراد ہلاک ہوئے۔

افریقی ملکوں میں اوسطا ہر 100 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بچہ ہلاک اور ہرآٹھ سال کے بعد لڑائی ہوتی رہی۔

اسٹانفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایران بنڈیفیڈ کا کہنا ہے کہ ماضی میں جاری ہونے والے اعدادو شمارمیں اتنی زیادہ ہلاکتیں نہیں دکھائی گئیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ براعظم افریقا میں ہونے والی لڑائیوں میں لاکھوں بچے مارے گئے۔

رپورٹ میں بچوں کی ہلاکتوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ لڑائیوں کے نتیجے میں امراض، غربت اور بھوک وافلاس میں غیرمعمولی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوتی رہیں۔ حاملہ خواتین کی دیکھ بحال نہ ہونے کے باعث بیماری، لاغر یا کمزور بچے پیدا ہوتے جو پیداہونے کے بعد مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث لقمہ اجل بن جاتے۔

متعلقہ خبریں