شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے خلاف امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد نے اعتراف کیا ہے کہ سنہ2014ء کے بعد شام اور عراق میں بمباری کے دوران 1061 عام شہری بھی مارے گئے۔

شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے خلاف امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد نے اعتراف کیا ہے کہ سنہ2014ء کے بعد شام اور عراق میں بمباری کے دوران 1061 عام شہری بھی مارے گئے۔

شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے خلاف امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد نے اعتراف کیا ہے ... 01 ستمبر 2018 (11:51) 11:51 AM, September 01, 2018

شدت پسند گروپداعشکے خلاف امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد نے اعتراف کیا ہے کہ سنہ2014ء کے بعد شام اور عراق میں بمباری کے دوران 1061 عام شہری بھی مارے گئے۔

عالمی فوجی اتحاد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اگست 2014ء سے جولائی 2018ء کے آخر تک مشتبہ داعشی جنگجوؤں کے خلاف 29 ہزار 920 حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں جنگجوؤں کے علاوہ 1061 عام شہری بھی مارے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جولائی تک سولین کی ہلاکتوں کی 18 درخواستوں کی تحقیقات کی گئیں جب کہ 15 کو مسترد کردیا گیا۔ جولائی کے آخر تک سولین کی ہلاکتوں سے متعلق سامنے آنے والی 216 شکایات پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں