جنوبی افریقا میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف ملنے کی امید

جنوبی افریقا میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف ملنے کی امید

جنوبی افریقا میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف ملنے کی امید 01 ستمبر 2018 (11:47) 11:47 AM, September 01, 2018

جنوبی افریقا میں طویل عرصے تک تنازع کا شکار رہنے والے اسلامی شرعی نکاح کے حوالے سے وہاں کی عدلیہ نے مثبت فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد جنوبی افریقا میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

 جنوبی افریقا کی ایک عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ دو سال کے اندر اندر قانون سازی کر کے اسلامی شرعی طریقے کے مطابق طے پانے والے عقد نکاح کو آئینی طور پر تسلیم کرے۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقا کے موجودہ نظام میں اسلامی شریعت کے مطابق نکاح کی کوئی گنجائش نہیں جس کے نتیجے میں وہاں کی مسلمان آبادی کو کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جنوبی افریقا کی اس پالیسی پر شدید نکتہ چینی کرتی رہی ہیں۔

جنوبی افریقا کی سپریم کورٹ نے حکومت سےکہا ہے کہ وہ اسلامی شرعی طریقے کے مطابق عقد نکاح کو دستوری طور پر تسلیم کرنے کے لیے 24مہینوں کے اندر اندر قانون سازی مکمل کرے تاکہ ملک میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اسلامی شرعی عقد نکاح کو تسلیم نہ کرنے کے نتیجے میں مسلمان خواتین کو طلاق کی صورت میں اپنے حقوق کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ آئینی سقم ہے اور اسے دور کرنے کے لیے حکومت دو سال کے اندر اندر قانون سازی مکمل کرے۔

متعلقہ خبریں