حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالے جانے کا قصہ

حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالے جانے کا قصہ

حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالے جانے کا قصہ 01 جون 2018 (23:19) 11:19 PM, June 01, 2018

حضرت ابراھیم علیہ السلام نے لوگوں کیساتھ عید گاہ جانے سے اِنکار کیا اور عُذر پیش کیا کہ وہ بیمار ہیں . وہ لوگ آپ کو چھوڑ کر چلے گے . جب و لوگ چلے گے توآپ علیہ السلام بُتوں کے پاس گے اور پوری قوت سے دائیں ہاتھ سے کلہاڑا مار کر اُن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے .لیکن بڑے بُت کو چھوڑ دیا . تا کہ سب اُسی کیطرف رجوع کریں . تمام چھوٹے بُتوں کو توڑ کر کلہاڑا اُس بڑے بُت کے کندھےپر رکھ دیا

جب مُشرکین میلے سے لوٹے تو دیکھا ,سارے معبود ٹوٹے پھوٹے پڑے ہیں . اُن کے تمام معبودوں کو توڑ دیا گیا تھا وہ حیران رہے گے کہ یہ سب کیسے ہو گیا اور کس نے ایسا کیا . کہنے لگے یہ کام کس ظالم کا ہے .جس نے ہمارے معبودوں کی توہین کی ہے . اُس وقت جن لوگوں کو حضرت ابراھیم نے اللہ کو ایک ماننے اور سچے مذہب کو قبول کرنے کی دعوت دی تھی . اُنھیں حضرت ابراھیم علیہ السلام کے اُس کلام کا خیال آ گیا تھا .وہ بولے , ایک نوجوان جس کا نام ابراھیم ہے . اُسے ہم نے اپنے بُتوں کی مُزمت کرتےُسنا ہے .قوم کے لوگوں نے مشورہ کیا اور ابراھیم کوبُلاؤ اور سارے لوگوں کو اکٹھا کیا جائے چنانچہ تمام مشرک ,چھوٹے بڑے سب جمع ہو گے

اُنھوں نے پُوچھا ; " اے ابراھیم ہمارے معبودوں کیساتھ یہ لغو حرکت تُو نے کی ہے " . اس کے جواب میں حضرت ابراھیم علیہ السلام نے فرمایا " یہ کام تو اس بڑے بُت کا ہے مجھ سے کیوں پوچھتے ہو تُم اپنے معبودوں سے کیوں نہیں پوچھ لیتے کہ یہ کام کس کا ہے ." . حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جواب سُن کر کر سب سوچ میں پڑ گے اور بولے" ہم سے ایک بڑی غلطی ہوئی ہے ہم نے اپنے معبودوں کے پاس کسی کوحفاظت کیلئے نہیں چھوڑا" .

اِ س قدر واضح بات محسوس کر کے بھی وہ مُشرکین ایمان نہ لائے .شیطان نے اُن کے دلوں میں وسوسہ ڈالا اور اُنھوں نے غوروفکر کر کے کہا ; " اے ابراھیم کیا تمھیں علم نہیں یہ تو بے زُبان ہیں یہ بول نہیں سکتے " . ابراھیم علیہ السلام نے فرمایا " تُم اللہ کے سوا اُس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں کُچھ بھی نفع نہ دے سکے اور نہ نُقصان پہنچا سکے تعجب ہے تُم لوگوں پر ,اُن پر بھی جن کو اللہ لے سوا معبود مانتے ہو کیا تُم میں بلکل بھی عقل نہیں " . اس طرح حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اُن پر حقیقت خُوب اچھی طرح واضح کر دی اور فرمایا تُم اُن کی پُوجا کرتے ہو جنھیں تُم خود تراشتے ہو یعنی ان کاحال یہ ہے کہ تُم نے ان کو اپنے ہاتھوں سے تراشا اور ان کے عبادت کرنے لگے جبکہ تمہیں اور تمھاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ نے ہی پیدا کیا ہے

اس واضح نشانی کے بعد بھی وہ کُفر پر ہی ڈٹے رہے اور کہنے لگے کہ " یہاں ایک آتش کدہ بناؤ اور ابراھیم کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو پھر اُنھوں نے ایک چیٹیل

میدان کا انتخاب کیا جہاں مٹی کا نام و نشان بھی نہیں تھا . اُس میدان کو پتھروں کی باڑ کیساتھ گھیر لیا گیا . پھر سب لوگوں کو حُکم دیا گیا کہ لکڑیاں جمع کر کے اُس گھیری ہو ئی جگہ پر لا کر رکھیں . "

وہاں موجود سب لوگ لکڑیاں جمع کرنے لگے عورتوں اور بچوں نے بھی اس کام.میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا . میدان میں اِتنی لکڑیاں جمع ہو گئیں کہ زمین نظر نہیں آتی تھی .لکڑیوں کو آگ لگائی گئی . جب آگ آسمان سے باتیں کرنے لگی تو حضرت ابراھیم علیہ السلام کو اُس آگ میں ڈالنے کیلئے ایک جھولہ تیار کیا گیا . اس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام کو رکھا گیا تو آپ نے اُس وقت یہ دُعا پڑھی "میرے لئے میرا اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے

بعض روایات میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور پوچھا " اے ابراھیم کوئی حاجت ہے تو میں حاضر ہوں " . حضرت ابراھیم علیہ السلام نے فرمایا اگر تُم اپنی مرضی سے آئے ہو تو مجھے تمھاری کوئی ضرورت نہیں . "

ایک دوسری روایت میں ہے کہ بارش کے فرشتے نے حاضر ہو کر کہا " اے ابراھیم مجھے حُکم دیں میں بارش برسا کر اس آگ کو بُجھا دو گا " .

اللہ کا حُکم ان سب سے پہلے کام کرنے والا تھا اللہ تعالٰی قرآنِ حکیم میں فرماتے ہیں ; "ہم نے کہا اے آگ ابراھیم پر ٹھنڈی ہو جا , اور سلامتی والی ہو جا اُنھوں نے ابراھیم کا بُرا چاہا لیکن ہم نے اُنھیں ہی نُقصا ن پا نے والا کر دیا

چناچہ جب ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ ٹھنڈی ہو گئی .

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں; کہ اگر اللہ تعالٰی آگ سے یہ نہ فرماتے کہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا تو اس قدر ٹھنڈی ہو جاتی کہ اس کی ٹھنڈک سے تکلیف محسوس ہوتی " .

اللہ تعالی نے آگ کو ٹھنڈا ہونے کا حکم دیا تو اُس نے نہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کے کپڑے جلائے اور نہ ہی کوئی نُقصان پہنچایا . صرف وہ رسیاں جلائیں جن سے آپ کو باندھا گیا تھا .مُشرکین آگ کے اردگرد اس لئے کھڑے تھے کہ جونہی حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جائیگا وہ جل کر راکھ ہو جائینگے مگر مُشرکین یہ دیکھ کر حیران رہے گے کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام بہت حفاظت و سکون سے آگ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے .

بعض روایات میں ہے کہ " حضرت ابراھیم علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ" مجھے اُن دنوں جو راحت اور سکون حاصل تھا وہ آگ سے نکلنے کے بعد نہیں حاصل ہوا . "

لوگ اس معجزے کو دیکھ کر حیرت ذدہ تھے .ابراھیم علیہ السلام آگ سے نکلے . اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود لوط علیہ السلام کے سوا کوئی شخص حضرت ابراھیم علیہ السلام پر ایمان نہ لایا

اللہ پاک قران مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ " بس ابراھیم پر لوط ایمان لائے " .

حضرت ابراھیم علیہ السلام اُن سے نااُمید ہو گے کہ اس سے بڑا مُعجزہ یہ اور کیا دیکھنا چاہتے ہیں . چناچہ آپ نے وہاں سے ہجرت کا ارادہ فرمالیا