بس اب بہت ہو گئے مزے۔پاکستان نے امریکہ کی اہم چیز روکنے کا اعلان کر دیا۔

بس اب بہت ہو گئے مزے۔پاکستان نے امریکہ کی اہم چیز روکنے کا اعلان کر دیا۔

بس اب بہت ہو گئے مزے۔پاکستان نے امریکہ کی اہم چیز روکنے کا اعلان کر دیا۔ 01 جون 2018 (17:12) 5:12 PM, June 01, 2018

پاکستان کاکہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان افغانستان میں موجود امریکی فوج کیلئے سپلائی لائن روک سکتا ہے۔

امریکی فوج اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ افغانستان میں جاری خانہ جنگی روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب بین الاقوامی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATF پاکستان کو امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے مطالبے پر ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے والی ہے جن کی دہشت گردی کیلئے مالی وسائل فراہم کرنے کے حوالے سے نگرانی کی جا رہی ہے۔

یہ اقدام صدر ٹرمپ کی پاکستان کے بارے میں پالیسی کا حصہ ہے جس کا اعلان صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس اگست میں کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے منقطع کرے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کر رہے ہیں۔

پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے کہ وہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی حمایت کرتا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکامی کے باعث ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ خرم دستگیر نے وائس آف امریکہ ایاز گل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان طویل عرصے سے ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں تاہم اس وقت دوطرفہ تعلقات میں بگاڑ اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اونچی سطح پر رابطے مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اب صورت حال یہ ہے کہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفیر دفتر خارجہ میں آ کر ہمارے اہلکاروں سے بات کرتے ہیں اور واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر امریکی محکمہ خارج سے بات کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے رابطوں کا طریقہ نہیں ہے اور اب پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے رابطے برقرار نہ رکھنے پر اصرار کی وجہ سے تعلقات خراب ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں اور یہ ایسی صورت حال ہے جس میں پاکستان کے مؤقف کو سنے جانے کے بجائے محض نگرانی پر رکھا جا رہا ہے۔

خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ سفارتی رابطوں کے علاوہ واحد رابطہ امریکی سینٹکوم کے کمانڈر جنرل جان ووٹل کا پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ رسمی طور پر پاکستان اب بھی امریکہ کا ایک کلیدی نان نیٹو اتحادی ہے اور امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دہشت گردوں کو مالی اعانت فراہم کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کروانے پر اصرار نے پاکستانی حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرے۔

دو طرفہ تعلقات اُس وقت مزید بگڑ گئے جب امریکی حکومت نے امریکہ میں موجود پاکستان کے سفارتی عملے کو سفارتی مشن کے 25 میل کے دائرے میں رہنے کیلئے پابند کر دیا جس کے جواب میں پاکستان نے امریکی سفارتی عملے پر بھی ایسی ہی پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے امریکی سفارتی عملے کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی یک طرفہ سہولت بھی واپس لے لی ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ مائک مامپیو نے امریکی کانگریس کو بتایا تھا کہ پاکستان میں امریکی سفارتکاروں کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ خرم دستگیر کے پاس وزارت دفاع کا قملدان بھی ہے۔ اُنہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران امریکہ کی طرف سے ملنے والی سول اور فوجی امداد سے ملک کے بجٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد ملی تھی۔ تاہم اس سال امریکی امداد مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ خراب تعلقات کے باوجود پاکستان نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کیلئے سپلائی لائن منقطع نہیں کی تھی۔ تاہم اب پاکستان کو اپنے تمام آپشنز پر غور کرنا ہو گا۔

پاکستان اس سے پہلے بھی ایک دفعہ سپلائی لائن منقطع کر چکا ہے جب 2011 میں امریکی فضائیہ نے غلطی سے حملہ کر کے دو درجن پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا تھا جس کے بعد امریکہ اور اُس کے نیٹو اتحادی دیگر ممالک کے راستے سمندری یا فضائی طریقے سے ساز و سامان کی ترسیل پر مجبور ہو گئے تھے۔

بعد میں اپنی حکومت کے آخری روز ایک پریس بریفنگ کے دوران وزیر خارجہ و دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ 2013 تک پاکستان میں بہت زیادہ دہشت گردی ہو رہی تھی اور اُن دنوں امریکہ پاکستان کو جو امداد فراہم کر رہا تھا وہ پاکستان پہنچ رہی تھی۔ تاہم پاکستان نے 2014 سے دہشت گردی کے خلاف قدم اُٹھایا اور جیسے جیسے دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ بڑھی، امریکی معاونت کم ہونا شروع ہو گئی جو اب مکمل طور پر بند ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان پیدا ہونے والے غیر ضروری اختلافات کی وجہ ٹھوس حقائق کے بجائے ایک دوسرے کے بارے میں قائم کیا جانے والا تاثر ہے۔

متعلقہ خبریں