خواجہ میر درد: قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیرو..... خبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا

خواجہ میر درد: قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیرو..... خبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا

خواجہ میر درد: قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیرو..... خبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا 01 جون 2018 (04:00) 4:00 AM, June 01, 2018

اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا

تو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا

میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے

مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا

گلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوں

میں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا

جفا سے غرض امتحان وفا ہے

تو کہہ کب تلک آزماتا رہے گا

قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیرو

خبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا

خفا ہو کے اے دردؔ مر تو چلا تو

کہاں تک غم اپنا چھپاتا رہے گا