بنوں کے فرعون کا مقابلہ کرنے کے لیے یہاں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔فضل الرحمان ایک مقناطیس ہے جدھر طاقت ہوتی ہے وہاں جا کر ۔۔۔۔۔۔عمران خان کا اکرم درانی کے گڑھ میں ایم ایم اے پر تنقیدی گولہ باری

بنوں کے فرعون کا مقابلہ کرنے کے لیے یہاں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔فضل الرحمان ایک مقناطیس ہے جدھر طاقت ہوتی ہے وہاں جا کر ۔۔۔۔۔۔عمران خان کا اکرم درانی کے گڑھ میں ایم ایم اے پر تنقیدی گولہ باری

بنوں کے فرعون کا مقابلہ کرنے کے لیے یہاں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔فضل ... 01 جولائی 2018 (20:05) 8:05 PM, July 01, 2018

عمران خان کا کہنا ہے کہ بنوں کے فرعون اکرم خان درانی کا مقابلہ کرنے کے لیے یہاں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ 2013 سے پہلے ان کی کیا حیثیت تھی لیکن آج کروڑ پتی بن گئے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جب اکرم خان درانی آپ کے پاس آئے تو ان سے پوچھنا کہ آپ حکومت میں تھے تو قرضہ 14 ہزار ارب روپے سے 27 ہزار ارب روپے ہو گیا تو کدھر گیا یہ قرض اور قوم کیسے اتارے گی اس قرضے کو۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان کو مولانا کہنا مولانا کی توہین سمجھتا ہوں کیونکہ ڈیزل کے پرمٹ پر بکنے والا مولانا نہیں ہو سکتا۔فضل الرحمان ایک مقناطیس ہے جدھر طاقت ہوتی ہے وہاں جا کر جڑ جاتے ہیں اور کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ضرور بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان اور درانی کے حالات بہتر ہوتے گئے لیکن بنوں کے لوگوں کے حالات ٹھیک نہیں ہوئے۔ عمران خان نے کہا کہ میرا خواب ہے کہ سب سے پہلے سرکاری اسکولوں کا نظام ٹھیک ہو تاکہ ایک غریب کا بچہ بھی بڑھ کر آگے آ سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا نظام ایسا ہو کہ جو محنت کرے وہ اوپر آئے لیکن اس ملک میں اکرم درانی جیسہ قبضہ گروپ لوگوں کو آگے نہیں آنے دیتا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ بنگلا دیش، سری لنکا اور بھارت میں گیس، بجلی یہاں سے سستی ہے، خیبرپختونخوا حکومت نے پانی سے بجلی بنانے کی پوری کوشش کی، تیل، کوئلہ، ایل این جی سے بجلی بنائیں گے، ڈالر مہنگا ہوا تو ہر چیز مہنگی ہوگی۔ عمران خان نے کہا کہ کے پی میں ہماری حکومت کے سوا کسی نے بجلی کے منصوبے نہیں لگائے، کے پی حکومت نے چار مائیکرو ہائیڈرل پاور پراجیکٹ بنائے، کے پی حکومت نے تین سو چھوٹے پاور اسٹیشن لگائے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں قوم غریب اور لٹیرے امیر ہوچکے ہیں، ملک کا نظام ایسا ہونا چاہئے جو محنت کرے وہ اوپر آئے، تھوڑے سے لوگ ملک پر قبضہ کرکے بیٹھے ہیں، اکرم درانی جیسے لوگ ملک کو یرغمال بنا کر بیٹھے ہیں، 4 ہفتے بعد ہمارے ملک کی قسمت کا فیصلہ ہوگا، فیصلہ ہوگا قائد اعظم کا پاکستان بنے گا یا چوروں کا پاکستان رہے گا۔

متعلقہ خبریں