ایک نو مسلم خاتون داعش سے جان چھڑا کر اپنے ملک پہنچی تو وہاں ایک نئی مصیبت میں پھنس گئی۔بیچاری کیساتھ وہ ھو گیا جو اس نے سوچا بھی نہ ہو گا۔

ایک نو مسلم خاتون داعش سے جان چھڑا کر اپنے ملک پہنچی تو وہاں ایک نئی مصیبت میں پھنس گئی۔بیچاری کیساتھ وہ ھو گیا جو اس نے سوچا بھی نہ ہو گا۔

ایک نو مسلم خاتون داعش سے جان چھڑا کر اپنے ملک پہنچی تو وہاں ایک نئی مصیبت میں ... 01 جولائی 2018 (18:31) 6:31 PM, July 01, 2018

فرانس کی ایک فوج داری عدالت نے سنہ 2015ء کو تین بچوں کے ساتھ شام کا سفر کرنے اور ’ داعش ‘ کے جنگجو کے ساتھ شادی کرنے کے الزام میں ایک خاتون کو سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق 42 سالہ کلیرخاسر پر ’سنگین‘ نوعیت کا الزام عاید کیا گیا ہے اور اسی الزام میں اسے پراسیکیوٹر کی طرف سے آٹھ سال قید کی سفارش کی گئی تھی تاہم عدالت نےملزمہ کو سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

خیال رہے کہ خاسر نے تین بار تین الگ الگ افراد سے شادیاں کیں جن سے اس کے چھ بچے ہیں۔ وہ فروری 2015ء کو الجزائر کے راستے ترکی اور وہاں سے تین بچوں جن میں سے چھوٹے بچے کی عمر دو اور بڑے کی سولہ سال تھی کہ ہمراہ شام میں داخل ہوگئی۔ ان میں ایک بچہ مکمل طورپر مفلوج تھا۔کلیر خاسر مئی2015ء کو شام پہنچی جہاں اس نے الرقہ شہر میں عمر دیاؤ نامی ایک فرانسیسی داعشی جنگجو کے ساتھ شادی کی۔ دونوں کے درمیان تعارف ’فیس بک‘ کے ذریعے ہوا تھا۔ عمر دیاؤ داعش کے جیل کے عملے کا اہم رکن تھا اور اس پر قیدیوں کواذیتیں دینے کا بھی الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس پر فرانس میں خواتین پرحملوں کی منصوبہ بندی کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔کلی خاسرنے بتایا کہ عمر دیاؤ ایک معمول کا جنگجو تھا اور اس نے شادی کے تھوڑے ہی عرصے بعد اسے طلاق دے دی تھی۔ تین یا چار ماہ کے بعد وہ شام سے واپس ترکی پہنچی جہاں ستمبر 2015ء کو ترک حکام نے اسے بے دخل کرکے فرانس بھیج دیا تھا۔ مئی 2016ء کو اس کے ہاں فرانس میں ایک بچے نے جنم لیا جو عمر دیاؤ سےتھا۔کلیر خاسر ایک نو مسلمہ ہے جس نے 17 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ فرانس میں حجاب اوڑھنے پر اسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کےوکلاء دفاع کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ کا شام میں دہشت گردی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

متعلقہ خبریں